حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش، مودی حکومت کے ناکام100دن: ڈاکٹر کے نارائنا
حیدرآباد۔/18 ستمبر، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے ملک میں ون نیشن ون الیکشن نظریہ کو ناقابل عمل قرار دیا اور کہا کہ نریندر مودی کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی جمہوریت ہے اس میں ون نیشن ون الیکشن پر عمل آوری ممکن نہیں۔ سی پی آئی اس نظریہ کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جموں کشمیر اور ہریانہ میں انتخابات جاری ہیں اور مہاراشٹرا میں جلد ہی انتخابات ہوں گے۔ ایسے میں ون نیشن ون الیکشن پر عمل آوری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے دوتہائی اکثریت لازمی ہے جو بی جے پی کے پاس نہیں ہے لہذا پارلیمنٹ میں اس کی منظوری کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کی زیر قیادت کمیٹی نے 18 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی ہے۔ مودی حکومت نے رپورٹ کی تفصیلات سے سیاسی پارٹیوں کو واقف نہیں کرایا اور نہ ہی کُل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا۔ صرف کابینہ کی منظوری سے ون نیشن ون الیکشن پر عمل آوری ممکن نہیں ہے۔ سی پی آئی قائد نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ون نیشن ون الیکشن ون لیڈر کے نظریہ کو ہوا دے رہی ہے تاکہ نریندر مودی کی قیادت کو مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی تیسری میعاد میں 100 دن کی کارکردگی پر عوام سوال اٹھارہے ہیں۔ مرکز کی ناکامیوں پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آر ایس ایس کی جانب سے نریندر مودی کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی اطلاعات عام ہیں ایسے میں مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ون نیشن ون الیکشن کا نظریہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور ملک کے مفاد میں نہیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ سی پی آئی دیگر جمہوری طاقتوں کے ساتھ ملکر ون نیشن ون الیکشن نظریہ کی مخالفت کرے گی۔1