5 اضلاع میں 70 فیصد ، 9 اضلاع میں 60 فیصد ، حیدرآباد میں 22 فیصد اور میڑچل میں 18 فیصد فارمس جمع
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں جاری خصوصی جامع نظر ثانی ( SIR ) پروگرام کے تحت انتخابی حکام کی جانب سے ووٹرس اینومریشن فارمس گھر گھر پہونچانے کا عمل تقریباً صد فیصد مکمل کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن عوام کی جانب سے فارم کی خانہ پری کراتے ہوئے اس کو بی ایل اوز کو واپس کرنے کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔ انتخابی عہدیداروں نے ریاست کے جملہ 3,38,26,448 کروڑ ووٹرس میں سے 3,38,21,554 ( 99.99 فیصد ) رائے دہندوں کو اینومریشن فارمس حوالے کردئیے ہیں مگر اب تک صرف 1,66,70,610 (49.28 فیصد ) ووٹرس نے ہی اپنے فارم واپس جمع کرائے ہیں ۔ فارمس کی خانہ پری اور بی ایل اوز کو واپس جمع کرانے کی اس سست روی کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں ووٹرس اپنے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے کافی سرگرم نظر آرہے ہیں ۔ جب کہ شہری علاقوں کے ووٹرس غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ اضلاع کمرم بھیم آصف آباد ، نظام آباد ، سدی پیٹ ، نلگنڈہ اور یادادری بھونگیر میں 70 فیصد سے زیادہ ووٹرس نے اینومریشن فارمس کی خانہ پری کرتے ہوئے اپنے متعلقہ بی ایل اوز کے حوالے کردئیے ہیں ۔ اضلاع نرمل ، کاماریڈی ، پداپلی ، راجنا سرسلہ ، میدک ، جوگولامبا گدوال ، جنگاوں ، کھمم اور نارائن پیٹ میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹرس اپنے اپنے فارمس جمع کراچکے ہیں ۔ جب کہ ضلع رنگاریڈی میں صرف 33 فیصد ، ضلع حیدرآباد میں 22 فیصد اور ضلع میڑچل ملکاجگری میں 18 فیصد ووٹرس نے اپنے فارمس جمع کرائے ہیں ۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف کے شہریوں میں اپنے ووٹ کے تحفظ کی کارروائی میں پیچھے رہنے پر شدید تنقید کی جارہی ہے جب کہ گریٹر حیدرآباد کے ان تین اضلاع میں تعلیم یافتہ شہریوں کی اکثریت پائی جاتی ہے ۔ اب تک ان علاقوں میں زیادہ تر صرف فوت شدہ ( مردہ ) ووٹرس یا دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد کے فارم ہی واپس آئے ہیں ۔۔ 2/a/b