رقومات کی ادائیگی میں تاخیر سے رجسٹریشن کا عمل مسدود، عدالت میں مقدمات
حیدرآباد۔15جنوری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں خریدی گئی اراضیات اور مالکین جائیداد کو رقومات کی ادائیگی کے معاملہ میں خریداروں کی جانب سے کی جانے والی تاخیر کے سبب عدالتوں میں مقدمات دائر کئے جانے کی وجہ سے رجسٹریشن کا عمل روکا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ مہیشورم ضلع رنگاریڈی میں جہاں کئی پراجکٹس جاری ہیں وہاں اس طرح کے کئی واقعات منظر عام پر آنے لگے ہیں اور رئیل اسٹیٹ کمپنیوں اور مالکین کی جانب سے اراضیات کی خریدی کے لئے ادا کی گئی مختصر رقم کے بعد مکمل رقومات کی ادائیگی میں کی جانے والی تاخیر اب ان وینچرس میں مکانات یا پلاٹس خریدنے والوں کے لئے وبال جان بننے لگا ہے کیونکہ ان اراضیات کے مالکین اب عدالتوں سے رجوع ہوتے ہوئے رجسٹریشن پر پابندی کے احکامات حاصل کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے ان جائیدادوں کا رجسٹریشن روکا جانے لگا ہے۔ گذشتہ دنوں تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے مہیشورم کے علاقہ میں جو ضلع رنگاریڈی کے حدود میں آتا ہے اس کے بعض سروے نمبرات میں رئیل اسٹیٹ مالکین کی جانب سے حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو مکمل رقم ادا نہ کئے جانے کے سبب ایچ ایم ڈی اے نے ان سروے نمبرات پر موجود وینچرس اور تعمیرات کے رجسٹریشن اور جائیدادوں کی منتقلی کے عمل پر امتناع عائد کروانے کے لئے محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کو ایک درخواست روانہ کی تھی جس پر محکمہ کی جانب سے سروے نمبرات 227اور 230 میں موجود وینچرس اور مکانات کی منتقلی اور رجسٹریشن کے عمل کو روک دیا جس پر مالکین جائیداد نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے راحت حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں انہیں ناکامی ہوئی لیکن عدالت میں مقدمہ پہنچنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہواکہ رامکی گروپ کی تعمیر کردہ اس ٹاؤن شپ میں موجود مکانات کی منظوری کے لئے ایچ ایم ڈی اے کو 100 کروڑ روپئے ادا کرنے تھے لیکن گروپ نے محض 25 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں ۔ چیف جسٹس اجل بھویان اور جسٹس تکارام جی نے اس مقدمہ کی سماعت کے بعد ڈسکوری سٹی ہاؤزنگ پراجکٹ میں موجود جائیدادوں کے رجسٹریشن پر حکم التواء جاری کردیا ہے جو کہ رامکی گروپ آف کمپنیز کی جانب سے تعمیر کرتے ہوئے فروخت کئے گئے ہیں ۔م