ایس آئی ٹی تصادم کے حالات اور وجوہات کا جائزہ لے گی اور یہ تعین کرے گی کہ آیا سیکیورٹی، حفاظتی انتظامات یا ٹریفک کے انتظام میں کوئی غفلت یا کوتاہی برتی گئی تھی۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی پیر، 26 اکتوبر کو اس وقت محفوظ رہے جب پوروانچل ایکسپریس وے پر ان کے قافلے کی کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ وہ اپنے خلاف ہتکِ عزت کے ایک مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں سلطان پور جا رہے تھے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یہ واقعہ سنگین نوعیت کا نہیں تھا اور کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی۔ قافلے نے جلد ہی سلطان پور کی جانب اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ یہ حادثہ صبح تقریباً 10:15 بجے پیش آیا۔ قافلے کے آگے چلنے والی ایک نجی گاڑی، جس کا تعلق مقامی کانگریس رہنماؤں سے تھا، کسی نامعلوم وجہ سے اچانک رک گئی (بریک لگ گئی)، جس کے نتیجے میں اس کے پیچھے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑیاں راستے میں قافلے کے ساتھ شامل ہوئی تھیں اور ان میں مسافر سوار تھے، جن میں پڑوسی ضلع امیٹھی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کارکن بھی شامل تھے۔
حکام کے مطابق، پیر کے روز بعد میں اتر پردیش پولیس نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس راجیو کرشنا کی ہدایت پر حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک ’اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم‘ (ایس آئی ٹی ) تشکیل دی۔
پولیس کے بیان کے مطابق، ایس آئی ٹی تصادم کے حالات اور وجوہات کا جائزہ لے گی اور یہ تعین کرے گی کہ آیا سیکیورٹی، حفاظتی انتظامات یا ٹریفک کے انتظام میں کوئی غفلت یا کوتاہی ہوئی تھی۔ ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکمل تحقیقات کرے اور جلد از جلد پولیس ہیڈ کوارٹر کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔
ٹیم کو ایسے واقعات کی دوبارہ روک تھام کے لیے تجاویز دینے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
گاندھی کا قافلہ، جس کے ساتھ سیکیورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی موجود تھے، صبح تقریباً 11:15 بجے سلطان پور کی عدالت پہنچنے والا تھا۔ یہ مقدمہ ان مبینہ قابلِ اعتراض ریمارکس سے متعلق ہے جو انہوں نے 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل بنگلورو میں ایک ریلی کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس وقت کے صدر امیت شاہ کے خلاف دیے تھے۔