ٹرمپ کی تجارتی پالیسی اور عالمی برادری کا ڈر

   

پی چدمبرم، سابق مرکزی وزیر داخلہ
ٹیرف سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کافی برہم ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ٹرمپ نے پرزور انداز میں کہا کہ جو ملک سپریم کورٹ کے فیصلہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ان پر زیادہ ٹیرف لگے گا اور اس فیصلے پر کھیلنے والے ممالک کو سخت سے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حد تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مضحکہ خیز فیصلہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں صادر کردہ فیصلہ میں مختلف ملکوں پر عائد ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت دنیا کے ملکوں پر ٹیرف عائد کئے وہ قانون قومی ایمرجنسی کیلیے تدوین کیا گیا تھا چنانچہ یہ قانون صدر ٹرمپ کو اضافی ٹیرف عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ صدر ہیں اور صدر کی حیثیت سے انہیں اس مسئلہ پر یعنی ٹیرف کو منظور کے لیے کانگریس سے رجوع ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کے نائب یعنی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے اسے لاقانونیت پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔ آپ کو بتادیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2 اپریل 2025ء کو انٹرنینل ایمرجنسی اکنامک پاورس ایکٹ (IEEPA) کے تحت اضافی ٹیرف با الفاظ دیگر جوابی ٹیرف عائد کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ان ٹیرف کو کالعدم قرار دیا۔ ٹرمپ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اس قدر برہم ہوگئے کہ سپریم کورٹ کے ججس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا۔ (ایسا بیان جو اگر ہندوستان میں دیا جاتا تو وہ فوری طور پر سپریم کورٹ کی توہین سمجھا جاتا اور توہین عدالت کی کاروائی کو دعوت دینا ہوتا) لیکن امریکہ میں دستور کی پہلی ترمیم کا حوالہ دیا جاتا ہے اور امریکی جج اس قسم کی تنقید سے متاثر نہیں ہوتے۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے صرف سپریم کورٹ ججس پر تنقید ہی نہیں کی یا صرف تنقید پر اکتفا کیا بلکہ موجودہ دوسرے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً وہی ٹیرف دوبارہ نافذ کردیئے۔
٭ تجارتی ایکٹ 1974ء کی دفعہ 122 (جسے صدر ٹرمپ نے استعمال کیا) ٭ تجارتی توسیع ایکٹ کی دفعہ 301 (جس کا صدر ٹرمپ نے حوالہ دیتے ہوئے کئی ملکوں کی ایکسپورٹس کی تحقیقات شروع کرنے کی دھمکی دی اور ٭اسموٹ۔ ہائی ٹیرف ایکٹ 1930ء کی دفعہ 338 ۔٭جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تقریباً تمام اشیاء پر ٹیرف 15 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ 2 فروری 2026ء کو 18 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا گیا تھا۔ بہرحال تجارتی توسیعی ایکٹ کی دفعہ 232 کے تحت اسٹیل، المونیم، سیمی کنڈکٹرز اور بعض کاروں کے پرزوں پر 50 فیصد ٹیرف برقرار ہے۔ یہ ٹیرف اب بھی زیادہ ہیں اور ہندوستان کی برآمدات کو متاثر کریں گے۔ حکومت ہند نے کہا ہے کہ وہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے تاہم اس فیصلہ کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ عبوری معاہدہ کے متن کو حتمی شکل دیتے ہیں اور اس پر دستخط کرنے کے لیے مذاکرات موخر کئے جاسکتے ہیں اور اس کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
سب کے سب بے بس ہیں: جیسے ہی امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ منظر عام پر آیا اور پھر اس پر مسٹر ٹرمپ نے انتہائی برہمی کے انداز میں ردعمل ظاہر کیا۔ اس دوران امریکی کانگریس سے مخالفت میں مختلف آوازیں بلند ہوئیں جب تک سپریم کورٹ نے مداخلت کرکے IEEPA ٹیرف کو منسوخ نہیں کیا تھا کالعدم قرار نہیں دیا تھا کانگریس انتظامیہ کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات پر قابو پانے میں بے بس تھی۔ فیصلہ کے بعد بھی کانگریس بے بس ہے۔ کیوں کہ مسٹر ٹرمپ اختیار حاصل کرنے کانگریس سے رجوع نہیں ہوں گے۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں پہلے ہی کانگریس سے اختیار حاصل ہے۔ اس کے علاوہ قانون کی کتاب میں ایسے کافی قوانین موجود ہیں جو جوابی ٹیرف کی شرحوں کو برقرار رکھنے کیلیے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ فیصلہ کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کو عدالتی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے لیکن انہیں نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔
امریکہ کے وہ تجارتی شراکت دار ممالک جنہوں نے حال ہی میں معاہدات کئے (زیادہ ترجوابی ٹیرف سے بچائو کیلئے) وہ بھی بے بس ہیں۔ ہمارے ملک جس نے 2 فروری کو مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں، بھی اس صورتحال کا شکار ہے۔ مسٹر جیمی سن گریر امریکی تجارتی نمائندہ (GSTR) پہلے ہی دیگر ممالک کو یہ پیغام دے چکے ہیں کہ کسی نے انہیں فون نہیں کیا اور عندیہ دیا کہ ان کا ملک معاہدہ سے الگ ہونا چاہتا ہے۔ دراصل مسٹر گریر نے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے والے تمام ممالک اچھے لڑکے تھے اور یہ اشارہ دیا کہ انہیں اچھا ہی رہنا چاہئے۔ دوسری جانب مسٹر ٹرمپ نے دوبارہ انتباہ دیا کہ جو بھی ملک معاہدہ توڑے گا اسے سخت ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا اگر Good Boys برے بن گئے تو انہیں انتقامی کاروائی برداشت کرنی ہوگی۔ اس انتباہ کو محض دھونس یا دھاک نہیں سمجھا جاسکتا کیوں کہ مسٹر ٹرمپ اپنے رجحانات اور تعصبات کے تحت فیصلے کرتے ہیں وہ ٹیرف کو محض ٹیکس نہیں بلکہ ہتھیار سمجھتے ہیں۔
تجارت میں ابتری: مراکش معاہدہ (اس معاہدہ نے GATT کی جگہ لی) اور عالمی تجارتی تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے قیام کے بعد دنیا کے ممالک قواعد پر مبنی تجارتی نظام کی پابندی کرنے کے پابند ہوگئے۔ اختلافات اور تنازعات ضرور تھے مگر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے ان کے حل کے لیے ایک قابل اعتبار پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ یکم جنوری 1995ء سے عالمی تجارت میں بے مثال وسعت دیکھنے میں آئی۔ مگر اب یہ سب کچھ انتشار اور بے ترتیبی کا شکار ہیں اور اس کی بڑی وجہ مسٹر ٹرمپ ہیں۔ سخت جوابی ٹیرف کے خطرہ کے تحت کئی ملکوں نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کئے۔ بڑے وعدے کئے اور جزوی ٹیرف رعائتیں حاصل کیں۔ اگرچہ جوابی ٹیرف ختم ہوگئے ہیں لیکن وہی ٹیرف دیگر قوانین اور ا حکامات کے ذریعہ دوبارہ نافذ کردیئے گئے ہیں۔ نتیجتاً دوسرے ملکوں کو حاصل ہونے والی ٹیرف رعاتیں بے اثر ہوگئیں ہیں جبکہ ان کی جانب سے کئے گئے بڑے وعدے ہنوز وفا نہ ہوسکے۔ آپ کو بتادیں کہ برازیل کے صدر لولاڈیسلوا نے صحیح نشاندہی کی جب انہوں نے کہا کہ دنیا کے ممالک کو متحد ہوکر امریکہ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہ معقول مشورہ ہے کیوں کہ کوئی بھی ملک سوائے چین کے تن تنہا امریکہ کا سامنا نہیں کرسکتا۔ دنیا میں عدم مساوات پائی جاتی ہے۔ مساوات کے معاملہ میں عدم توازن پایا جاتا ہے اور اس پر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور ار سب سے بڑی معیشت (امریکہ) کا رہنما غیر مستقل مزاج کا حامل ہے۔ اس کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ کب کیا کردے۔ یعنی وہ Un Predictable ہے۔ ہندوستان واقعی صدر ٹرمپ کی مرضی و منشا کے آگے جھک چکا ہے اور ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی دوسرے ملک بھی ایسا کرچکے ہیں۔ بالفاظ کئی ترقی یافتہ ملکوں نے خود کو امریکہ اور اس کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے آگے سرینڈر کردیا ہے۔