ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف امریکہ کی تمام ریاستو ں میں سینکڑوں احتجاجی مظاہرے

,

   

مظاہروں کی تعداد 1200 ، ایلون مسک نشانہ پر ، کینیڈا اور میکسیکو میں بھی احتجاج کا منصوبہ

واشنگٹن : امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہرین صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے ہیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ہفتہ کو امریکہ بھر میں لگ بھگ ایک ہزار 200 مختلف احتجاجی پروگرام تشکیل دیے گئے جن میں شرکت کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ارب پتی مشیر ایلون مسک کے خلاف مارچ کیا۔واشنگٹن مانومنٹ کے اردگرد سبز میدان میں اکھٹے ہونے والے مظاہرین کے منتظمین نے روئٹرز کو بتایا کہ نیشنل مال میں ہونے والی ریلی میں 20 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔اس احتجاج کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ کے مطابق تقریباً 150 تنظمیوں اور گروپوں نے احتجاج میں شرکت کے لیے سائن اپ کیا تھا۔امریکہ کی تمام 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا اور میکسیکو میں احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ریاست نیو جرسی کے شہر پرنسٹن سے تعلق رکھنے والی ایک ریٹائرڈ بائیو میڈیکل سائنس دان ٹیری کلین ان لوگوں میں شامل تھیں جو واشنگٹن یادگار کے نیچے سٹیج پر جمع تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ریلی میں شرکت کے لیے لانگ ڈرائیو کر کے ا?ئی ہیں۔ ’امیگریشن سے لے کر ڈاج تک، رواں ہفتے ٹیرف تک، تعلیم تک۔ میرا مطلب ہے کہ ہمارا پورا ملک حملے کی زد میں ہے، ہمارے تمام ادارے، وہ تمام چیزیں جو امریکہ کو امریکہ بناتی ہیں۔‘یادگار کے ارد گرد لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ کچھ نے یوکرین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور کچھ نے فلسطینی کوفی ا سکارف پہن رکھے تھے اور ’فلسطین کو اآزاد کرو‘ کے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس ارکان نے بھی احتجاج میں شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی۔مظاہرے میں شریک 73 سالہ وین ہوفمین نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں فکر مند ہیں جس میں ٹیرف کا معاملہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں سے ریپبلکن حامی ریاستوں میں کسانوں کی زندگی مشکل ہو جائے گی اور لوگوں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ انٹرن کائل ان مظاہرین کے قریب سے گزرنے والی ٹرمپ کی واحد حامی تھیں۔ کائل نے ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں‘ کے ٹرمپ سلوگن والی کیپ پہنی ہوئی تھی اور واشنگٹن ڈی سی کی ریلی کے مظاہرین سے بحث کر رہی تھیں۔انہوں نے روئٹرز کو اپنے نام کو دوسرا حصہ نہ بتایا تاہم کہا کہ احتجاج کرنے والے زیادہ تر لوگ سخت گیر نہیں۔