ٹرپل آئی ٹی کے مسائل پر ڈاکٹر نارائنا کا مرکزی وزیر کو مکتوب

   

احتجاج سے روکنے طلبہ کو ہراساں کرنے کا الزام
حیدرآباد۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے ٹرپل آئی ٹی باسر کے مسائل اور طلبہ کو ہراسانی کے خلاف مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل دھرمیندر پردھان کو مکتوب روانہ کیا۔ ڈاکٹر نارائنا نے شکایت کی کہ یونیورسٹی حکام کی جانب سے طلبہ کو احتجاج ترک کرنے کے لئے ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیز کے ہاسٹلس کی ذمہ داری خانگی کنٹراکٹرس کو دی گئی ہے۔ ہاسٹل میں 6000 سے زائد طلبہ ہیں جنہیں غیر معیاری غذا سربراہ کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ گزشتہ 10 دن قبل ناقص غذا کی سربراہی سے متاثر ہوئے اور تقریباً 600 طلبہ کا علاج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ٹیچنگ اسٹاف کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں لائبریری کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ سے موبائیل فونس اور ان کے لیاپ ٹاپس جبراً حاصل کرلئے گئے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ طلبہ کا احتجاج جاری ہے لیکن حکام کو کوئی فکرنہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مرکزی حکومت سے فوری مداخلت اور مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ کرتی ہے۔