ٹمریز میں برسر کار عہدیداروں کی قابلیت واہلیت خود مشکوک

   


آر ٹی آئی درخواست کے غیر واضح اور غیر مکمل جواب ۔ تقررات پر گمراہ کن تاویل پیش کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔30۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست کے لاکھوں اقلیتی طلبہ کا مستقبل اور ان کی تعلیم حکومت نے ان لوگوں کے حوالہ کی ہے جنہیں خود انگریزی نہیں آتی یا پھر وہ اقلیتی طلبہ کی تعلیم و ترقی کے معاملہ میں قطعی طور پر سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ قانون حق آگہی 2005 کے تحت تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائیٹی کو روانہ درخواست کے سوالات کے جوابات ایسے دیئے گئے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹمریز میں برسر خدمت عہدیدارنہ صرف انگریزی نہیں جانتے بلکہ وہ اس قدر نااہل ہیں کہ انہیں سوال تک سمجھ میں نہیں آتا۔ 30ستمبر کو روانہ RTIکی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ٹمریز کے صدر دفتر بنجارہ ہلز میں برسر خدمت غیر تدریسی عملہ کی تفصیل فراہم کی جائے اور اس کیلئے ایک نمونہ بھی دیا گیا تھا جس میں عہدیدار کا نام‘ تاریخ تقرر ‘ تعلیمی قابلیت ‘ عہدہ اور ذمہ داریوں کے علاوہ تنخواہ کی تفصیلات فراہم کرنے کی گنجائش تھی لیکن شائد ٹمریز عہدیداروں کو تعلیمی قابلیت اور اہلیت کے درمیان فرق ہی نہیں معلوم کیونکہ جو جواب دیا گیا اس میں عہدیداروں کے نام اور ان کی تاریخ تقرر‘ و تعلیمی قابلیت کے علاوہ نہ ہی تنخواہوں کی تفصیل موجود ہے اور نہ ان کی ذمہ داریوں کے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں بلکہ درخواست گذار کو گمراہ کن انداز میں جو جواب دیا گیا اس میں عہدیدار کا رتبہ تقرر کے طریقہ اور تعلیمی قابلیت کی جگہ محض اہلیت جو سرکاری محکمہ جات میں لازمی ہوتی ہے اس کے متعلق تفصیلات 4 افراد کے متعلق فراہم کی گئی ہیں جبکہ دوسرے سوال میں ٹمریز میں تقررات کیلئے اعلامیہ یاتقرر کے طریقہ کار کی تفصیلات فراہم کرنے کہاگیا تھا جس پر انتہائی مضحکہ خیز جواب دیتے ہوئے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ ٹمریز میں تقررات کیلئے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا اور تقررات کی پالیسی اور قواعد کے متعلق کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔پبلک انفارمیشن آفیسر ٹمریز کی جانب سے تقررات کے طریقہ کار اور درکار اسٹاف کے متعلق دریافت کئے جانے پر جو جواب دیا گیا اس میں کہا گیا کہ ٹمریز میں تقررات کے کوئی قواعد نہیں ہیں اور جب کبھی ضرورت ہوتی ہے آؤٹ سورسنگ تقررات کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح لاکھوں اقلیتی طلبہ کے مستقبل کو تابناک بنانے کے نام پر کروڑہا روپئے کا خرچ کرنے والے اس ادارے میں برسر کار مؤظف ملازمین کے متعلق صریح دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے کہاگیا کہ ٹمریز میں کوئی مؤظف عہدیدار برسرکار نہیں ہے ۔ آرٹی آئی درخواست کا مقصد ادارہ میں دھاندلیوں کو آشکار کرنا تھا لیکن عہدیداروں کی جانب سے غیر واضح جواب روانہ کرکے گمراہ کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اس بات سے ہر شخص واقف ہے کہ ٹمریز میں ایسے افراد طلبہ کے تعلیمی معیار کا تعین کر رہے ہیں جن کی خود کوئی تعلیمی قابلیت نہیں ہے۔ ٹمریز حکام کو آرٹی آئی جواب دینے میں اس قدر خطرہ ہے کہ 28 نومبر کو روانہ کیا گیا جواب اندرون شہر 29ڈسمبر کو ملا جو کہ آرٹی آئی کی درخواستوں کے حشر کو واضح کرتا ہے۔(جاری ہے)۔م