حکومت سے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی اقامتی اسکولس میں 9096 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 24 ستمبر (سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولس میں 1445 ٹیچرس و لکچررس کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی اقامتی اسکولس میں جملہ 9096 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا چار ماہ قبل اعلان کیا گیا۔ محکمہ فینانس کی منظوری کے باوجود تقررات میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے جس سے تمام اقامتی اسکولس و کالجس میں طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے اور عارضی ٹیچرس اور لکچررس کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے ان تعلیمی اداروں میں نصاب کی تکمیل پر توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ سے طویل عرصہ سے ملازمتوں کے منتظر رہنے والے طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہورہی ہے۔ تمام طبقات کے اقامتی اسکولس کے تقررات میں ٹی جی ٹی کے سوائے ماباقی جائیدادوں کیلئے ٹیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے سوائے ٹی جی ٹی کے ماباقی جائیدادوں پر تقررات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ٹیچرس ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی گئی۔ زونس، ملٹی زونس اور ضلعی سطح ملازمین کے ریسلائزیشن کیلئے ملازمین سے آپشن لیا گیا، جس کے تحت سیناریٹی لسٹ تیار کی گئی۔ جاریہ تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا تقررات کیلئے رہنمایانہ خطوط بھی تیار ہوگئے ہیں۔ باوجود اس کے تقررات کے عمل میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ اس طرح اقلیتی اقامتی اسکولس میں 1445 ایس سی اقامتی اسکولس میں 2267 ایس ٹی اقامتی اسکولس میں 1514 اور بی سی اقامتی اسکولس میں 3870 ٹیچرس کے تقررات کی منظوری دی گئی تھی۔ن