ٹمریز کے اداروں میں زیرتعلیم طلباء کیا محفوظ ہیں ؟

   

گولکنڈہ جونیر کالج واقعہ کے بعد سرپرستوں میں تشویش کی لہر

حیدرآباد۔25۔جون(سیاست نیوز) ٹمریز کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیا محفوظ ہیں!؟ان ادارو ںمیں پیش آنے والے اندوہناک واقعات نے نہ صرف اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو تشویش میں مبتلاء کیا ہوا ہے بلکہ جن لوگوں نے ’’ٹمریز‘‘ کے اسکولوں اور کالجس میں داخلوں کیلئے مہم چلائی تھی وہ بھی اب دوبارہ ان سرگرمیوں کا حصہ بننے پر ازسرنو غور کرنے لگے ہیں۔ گولکنڈہ ٹمریز گرلز جونیئر کالج میں طالبہ کی زچگی اور نوزائیدہ کے قتل پر محض پرنسپل اور وارڈن کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے معاملہ کو رفع دفع کیا جانا ’’ٹمریز‘‘ انتظامیہ کی لاپرواہی کو ثابت کرتا ہے کیونکہ ’ٹمریز‘ کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی صحت کی نگرانی کے لئے ہر اسکول اور جونیئر کالج میں نرس موجود ہے جو کہ معمول کے مطابق روزانہ کی اساس پر خدمات انجام دیتی ہے‘ اس کے علاوہ ٹمریز میں لاکھوں روپئے ادا کرتے ہوئے انتظامیہ نے ’’شی ٹیم‘‘ کا قیام عمل میں لایا ہے اور برسوں سے لاکھوں روپئے انہیں سہولتوں کی فراہمی اور تنخواہوں کے نام پر ادا کئے جا رہے ہیں لیکن ان کا کوئی تعلق نفسیات سے ہے اور نہ ہی بچوں کی سائیکالوجی سے ہے ۔’ٹمریز‘ میں خدمات انجام دینے والی اس ’’شی ٹیم‘‘ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ماہ کے دوران کم از کم 100 اسکولوں کا دورہ کرتے ہوئے اسکولوں اور کالجس میں تعلیم حاصل کررہی طالبات سے جنسی ہراسانی ‘ ان کی صحت کے علاوہ انہیں درپیش مسائل کے متعلق دریافت کرتے ہوئے ان کی کونسلنگ کرے لیکن کیا یہ ’’شی ٹیم‘‘ نے ٹمریز جونیئر کالج برائے طالبات (گولکنڈہ ) کا دورہ نہیں کیا اور اگر کیا تھا تو کیا مذکورہ طالبہ سے ان کی ملاقات نہیں ہوپائی یا پھر معاملہ کو نظرانداز کیا جاتا رہا حالانکہ ٹمریز میں مذکورہ طالبہ کا داخلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ سال گذشتہ بھی اس طالبہ نے ٹمریز جونیئر کالج میں ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ ٹمریز کے اداروں میںتعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی صحت کی نگرانی کے سلسلہ میں صرف’اسٹاف نرس‘ ہی نہیں ہے بلکہ خانگی غیر سرکاری تنظیم ’ہیلپ حیدرآباد‘ کوبھی طلبہ کی صحت کی نگرانی کے لئے ماہانہ 6لاکھ 50 ہزار روپئے ادا کئے جاتے ہیں ۔ ٹمریز کے عہدیداروں اور ذمہ داروں کے دعوے کے مطابق اتنی سخت نگرانی کے باوجود ’ادارہ‘ میں تعلیم حاصل کرنے والی ایک طالبہ حاملہ ہوجاتی ہے اور کسی کی مدد کے بغیر 9 مہینہ اپنے حمل کی حفاظت کرتی ہے اور کالج کے ہی بیت الخلاء میں بغیر کسی کی مدد حاصل کئے بچہ کو جنم دینے کے بعد اسے تیسری منزل سے نیچے پھینکتے ہوئے اس کا قتل کردیتی ہے ۔یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب ’ٹمریز‘ انتظامیہ کو دینے چاہئے تاکہ ٹمریز کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے تابناک مستقبل کو یقینی بنایا جاسکے اور ان کے تحفظ کے اقدامات کے متعلق اولیائے طلبہ و سرپرستوں میں اطمینان پیدا ہوسکے۔3