حکومت پہلے تلنگانہ کسانوں کی مدد کرے، پارلیمنٹ میں قوانین کی منسوخی تک احتجاج جاری رہے گا، حیدرآباد میں مہا دھرنا سے راکیش ٹکیت کا خطاب
حیدرآباد۔25۔نومبر (سیاست نیوز) بھارتیہ کسان یونین قائد راکیش ٹکیت نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ٹی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کو ریاست میں باندھ کر رکھیں تاکہ وہ مرکز میں بی جے پی کی تائید نہ کرسکیں۔ ٹکیت نے مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے ایک سال کی تکمیل پر حیدرآباد میں مہا دھرنا میں حصہ لیا۔ راکیش ٹکیت کے علاوہ آل انڈیا کسان سنگھرش رابطہ کمیٹی جنرل سکریٹری اتل کمار انجان ، آل انڈیا کسان رابطہ کمیٹی قومی جنرل سکریٹری حنان ملا، آشش متل ، جے باجوا (بھومی بچاؤ مہم اترا کھنڈ) کے علاوہ آل انڈیا کسان رابطہ کمیٹی کے ریاستی قائدین پی پدما ، آر چندر شیکھر ، اوپیندر ریڈی اور دوسروں نے حصہ لیا۔ راکیش ٹکیت نے بی جے پی کے ساتھ تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی کسانوں کے بارے میں پالیسی غیر واضح ہے۔ انہوں نے کسان سنگھرش رابطہ کمیٹی کو مبارکباد پیش کی جس میں کسان آندولن کے ایک سال کی تکمیل پر حیدرآباد میں پروگرام منعقد کیا ہے۔ کسان آندولن میں فوت کسانوں کو کے سی آر حکومت کی جانب سے فی کس تین لاکھ روپئے ایکس گریشیا کے اعلان پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ کے سی آر کو تلنگانہ کے ان کسانوں کے خاندانوں کی مدد کرنی چاہئے جو قرض کے بوجھ سے خودکشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسان دھان کی خریدی کیلئے فکرمند ہیں۔ مرکز کی جانب سے اقل ترین امدادی قیمت سے متعلق قانون کی منظوری تک کسانوں کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تلنگانہ کی زبان سے وہ واقف نہیں لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر کسی کا جذبہ ایک ہے۔ ٹکیت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں کیونکہ وہ مخالف کسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور ایم ایس پی قانون وضع کرنے تک ایجی ٹیشن جاری رہیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایجی ٹیشن میں فوت کسانوں کے خاندانوں کی مدد ہر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ خاندانوں کی حالت انتہائی دگرگوں ہیں۔ انہوں نے الیکٹرسٹی ترمیمی بل کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ قانون کسانوں کے خلاف ہے۔ ٹکیت نے کہا کہ مودی حکومت عوامی نہیں بلکہ ڈکٹیٹرشپ ہے۔ آر ایس ایس کی قیادت میں مودی سرکار کام کر رہی ہے۔ اڈانی اور امبانی کی ہدایات پر عمل کرکے سرکاری اداروں کو کارپوریٹ کے حوالے کیا جارہا ہے ۔ ٹکیت نے میڈیا سے بات کی اور واضح کردیا کہ مرکز کو کسانوں سے بات کرنی چاہئے، اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو ٹی آر ایس حکومت سے چوکس رہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ وہ خودکشی کرچکے کسانوں کی مدد کرے۔ کسان مورچہ تلنگانہ کے کسانوں کی جدوجہد کی تائید کرتا ہے۔ دھان کی خریدی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش ، پنجاب اور دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مرکز نے زرعی قوانین سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسان تنظیموں کی جانب سے پارلیمنٹ تک مارچ کا پروگرام برقرار رہے گا اور محدود تعداد میں ٹریکٹرس پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے۔ انہوں نے کسانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ جدوجہد کیلئے تیار رہیں کیونکہ کبھی بھی ٹریکٹرس کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بندوق کا پہرا ہے جس کے نتیجہ میں کسان احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم کی جانب سے تپسیا کا ذکر کرنے پر ٹکیت نے سوال کیا کہ کسانوں کو لوٹنا مودی کی اصل تپسیا تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ مودی مہاتما نہیں جو تپسیا کریں۔ کسان آندولن میں 750 سے زائد کسانوں نے جان قربان کی ، انکے خاندانوں کی مدد اور مقدمات سے دستبرداری تک احتجاج جاری رہیگا۔ ر