چیف منسٹر کے سی آر خود میدان میں کود پڑے ، سابق بی جے پی ایم پی آنند بھاسکرکی عنقریب شمولیت
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ٹی آر ایس کا آپریشن آکرشن اور گھر واپسی کی مہم تیزی سے جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر قائدین میں ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ بی جے پی کو اس معاملے میں پیچھے چھوڑنے اور عوام کی توجہ ٹی آر ایس کی طرف راغب کرنے چیف منسٹر خود میدان میں کود پڑے ہیں ۔ سابق ٹی آر ایس قائدین جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا تھا اور کسی وجہ سے وہ ٹی آر ایس سے ناراض ہو کر دوسری جماعتوں میں شامل ہوگئے ہیں ۔ انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کرنے کے سی آر ان سے بات کررہے ہیں ۔ زیادہ تر بی جے پی کے قائدین سے بات چیت کا علم ہوا ہے ۔ اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کو جھٹکا دینے بی جے پی نے ٹی آر ایس کے سابق ایم پی بی نرسیا گوڑ کو بی جے پی میں شامل کرلیا جس کے بعد ٹی آر ایس نے بی جے پی کو سیاسی کمزور کرنے کی ٹھان لی اور بڑے پیمانے پر بی جے پی قائدین سے بات کی جارہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ پہلے نلگنڈہ کے اسمبلی حلقہ آلیر کی نمائندگی کرنے والے سابق رکن اسمبلی بی جے پی قائد بھکشمیا گوڑ ٹی آر ایس میں شامل ہوئے پھر دوسرے دن تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق صدر نشین سوامی گوڑ ، بی جے پی کے قائد ڈی شراون ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ اتوار کو سابق رکن راجیہ سبھا و بی جے پی قائد آنند بھاسکر نے پرگتی بھون پہونچکر چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کی وہ بھی جلد ٹی آر ایس میں شامل ہونگے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے خود فون پر چند قائدین سے بات کی ہے ۔ بی جے پی قائدین میں سابق ایم پی جتیندر ریڈی ، سابق رکن اسمبلی اے رویندر ریڈی کے علاوہ تلنگانہ تحریک میں جے اے سی کا حصہ رہنے والے چند قائدین سے بھی ٹی آر ایس رابطہ میں ہے ۔ بی جے پی کے چند قائدین بظاہر ٹی آر ایس سے بات چیت کی تردید کررہے ہیں مگر خفیہ طور پر گھر واپسی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی جانب سے انتخابی مہم چلاتے ہوئے ٹی آر ایس مخالف تلنگانہ تحریک قائدین میں تبدیل ہوجانے اور بی جے پی تلنگانہ حامیوں کے مرکز میں تبدیل ہوجانے کا دعویٰ کررہے ہیں جس کے بعد ٹی آر ایس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور تحریک میں حصہ لینے والے قائدین کو پارٹی کا حصہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے ناراض قائدین سے بھی رابطے میں ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔۔ ن