بی جے پی کا خوف دلاتے ہوئے دامن بچانے کی حکمت عملی ۔ اضلاع اور شہر کے مسلمانوں کی بر سر اقتدار پارٹی سے بتدریج دوریاں
حیدرآباد۔14جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کرچکی ہے اور اب ان کو پورا کیا جائے گا یا مکمل نظرانداز کردیا جائے گا یہ کہنا مشکل ہوچکا ہے ۔ برسراقتدار پارٹی نے مسلمانوں سے جو وعدے کئے تھے ان میں 12فیصد مسلم تحفظات سب سے اہم وعدہ تھا لیکن اس کو حکومت کی جانب سے مرکز پر ڈالتے ہوئے نظرانداز کیا جانے لگا ہے اور مرکز میں بی جے پی کی جانب سے مسلم تحفظات میں اضافہ تو دور جو 4فیصد تحفظات دیئے گئے ہیں انہیں ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ تحفظات معاملہ پر حکومت کی جانب سے مرکز کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس میں تاخیر قابل فہم ہے لیکن جو معاملات ریاستی حکومت کے دائرہ کار میں ہیں ان پر بھی عمل آوری نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس اب مسلمانوں سے وعدوں کو پورا نہیں کرے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ منی کنڈہ میں حکومت 40کروڑ کی لاگت سے انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کا قیام عمل میں گی اور اس سلسلہ میں اراضی کی نشاندہی کا بھی اعلان کیا تھا اور اس کو اسمبلی میں کئے گئے 5برس گذرچکے ہیں لیکن عالمی معیار کے اسلامک سنٹر کیلئے کوئی پہل نہیں کی جاسکی ہے۔اسی طرح چیف منسٹر نے درگاہ حضرت خواجہ معین الدین غریب نواز ؒ کے زائرین کی سہولت کیلئے اجمیر میں رباط کی تعمیر کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کو 7سال گذرچکے ہیں لیکن اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں کی گئی ۔تلنگانہ راشٹر سمیتی نے تشکیل تلنگانہ سے قبل مسلمانوں کو جو خواب دکھائے تھے اقتدار میں آنے کے بعد ان کو چکنا چور کردیا ہے اور حکومت کی جانب سے اب مسلمانوں سے وعدوں کے متعلق استفسار پر انہیں بی جے پی سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے او رکہا جا رہاہے کہ اگر ٹی آر ایس کی جانب سے انٹرنیشنل اسلامک سنٹر اور اجمیر میں رباط کی تعمیر جیسے اقدامات کئے جاتے ہیں تو بی جے پی کو استحکام ملے گا اسی لئے مسلمانوں کو مصلحت سے کام لے کر خاموشی اختیار کرنی چاہئے ۔ٹی آر ایس میں موجود مسلم قائدین چیف منسٹر کو نمبر ون سیکولر چیف منسٹر کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن چیف منسٹر مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کرچکے ہیں اور ان وعدوں کے متعلق ان سے استفسار کرنے کی کسی میں جرأت نہیں ہے۔ ریاست میں ٹی آر ایس کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد فیس بازادائیگی اسکیم میں تاخیر کے سبب سینکڑوں انجنیئرنگ کالجس بند کئے جاچکے ہیں اور ایسے کئی نقصانات کے باوجود سیکولر ازم کے نام پر ٹی آر ایس مسلمانوں کے درمیان اپنے وجود کو باقی رکھے ہوئے ہے لیکن اب نہ صرف اضلاع بلکہ شہر کے مسلمانوں کی جانب سے بھی ٹی آر ایس کے وعدوں اور چیف منسٹر کے اسمبلی میں کئے گئے اعلانات بالخصوص انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کی تعمیر اور اجمیر میں رباط کی تعمیر پر استفسار کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر حکومت سے ان امور کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو مسلمان بھی اس مرتبہ ٹی آر ایس کو نظرانداز کرنے تیار ہیں۔م