ٹی آر ایس کو عطیات والی آمدنی میں 940% کا اضافہ

   

حیدرآباد ۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) ڈی ایم کے، ٹی آر ایس اور ایم این ایس کو مالیاتی سال 2019-20ء اور 2020-21ء کے درمیان عطیات سے ہونے والی آمدنی کے فیصد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کو عطیات سے ہونے والی آمدنی میں 940% تک اضافہ ہوا جبکہ اس میں سب سے زیادہ اضافہ ٹی آر ایس کی دوست جماعتوں ڈی ایم کے 1110% اضافہ اور جے ڈی کو عطیات سے ہونے والی آمدنی میں 889% کا اضافہ ہوا۔ 2019ء میں ٹی آر ایس کو عطیات سے 39.9 لاکھ روپئے وصول ہوئے تھے جو 20202-21ء میں بڑھ کر 4.15 کروڑ روپئے ہوگئے۔ یہ بات اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی رپورٹ پر مبنی ہے جو علاقائی جماعتوں کی جانب سے انہیں حاصل ہونے والے عطیات کے اعلان پر توجہ دیتی ہے جس طرح سے ان جماعتوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پاس اس کی تفصیلات داخل کی ہیں۔ مالیاتی سال 20202-21ء کے دوران ٹی آر ایس کو جملہ 4.15 کروڑ وپئے کے عطیات وصول ہونے کا پارٹی نے اعلان کیا۔ ٹی آر ایس کو 416 کروڑ روپئے 22 عطیات سے حاصل ہوئے۔ گرین میٹرو انفراٹیک اینڈ پراجکٹس پرائیویٹ لمیٹیڈ نے 2 کروڑ روپئے کا عطیہ دیا جبکہ شانتی کنسٹرکشنس نے ٹی آر ایس کو ایک کروڑ روپئے کا عطیہ دیا۔