ٹی آر ایس کو منوگوڑ میں مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں

   

گذشتہ 8 برسوں میں محض جھوٹے وعدے، منوگوڑ میں انتخابی مہم سے محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد۔/26 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کو منوگوڑ میں مسلم ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے آج منوگوڑ کے چنڈور منڈل میں کونڈہ پور اور دیگر مقامات پر کانگریس امیدوار پی شراونتی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ اس موقع پر مختلف کارنر میٹنگس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے مسلم قائدین منوگوڑ میں مہم چلارہے ہیں اور کے سی آر کو اقلیت دوست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے 2014 سے مسلمانوں کو مسلسل دھوکہ دیا ہے اور جھوٹے وعدے اور تیقنات کے ذریعہ بہلانے کی کوشش کی گئی۔ کے سی آر نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ پر عمل نہیں کیا اور موجودہ 4 فیصد تحفظات کو بچانے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ کانگریس نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت 4 فیصد تحفظات پر عمل کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاورس کا وعدہ کیا لیکن اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ محمد علی شبیر نے مختلف دیہاتوں میں مسلمانوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کی سماعت کی۔ مقامی افراد نے انتخابات میں کانگریس کی تائید کا تیقن دلایا۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ہزاروں کروڑ کی جائیدادوں کے دستاویزات کو کچرے کی طرح گوداموں میں پھینک دیا گیا ہے۔ کئی اہم فائیلیں تباہ ہوچکی ہیں لیکن حکومت کو وقف ریکارڈ کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں کیا جس کے نتیجہ میں 80 فیصد اقلیتی کالجس گذشتہ آٹھ برسوں سے غیرکارکرد ہیں۔ محمد علی شبیر نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کے گھٹتے ہوئے تناسب پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھا جارہا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے اور فنڈز کی کمی کے باعث اقلیتی ادارے اسکیمات پر عمل آوری سے قاصر ہیں۔ اقلیتی اداروں کی مکمل تشکیل کے بارے میں حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے ایک بھی اقلیتی امیدوار کو قرض جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اقلیتی رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کو مسترد کردیں اور کانگریس امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ر