ٹی آر ایس کی مقبولیت سے کانگریس کے نام نہاد قائدین بوکھلاہٹ کا شکار

   

کانگریس قائدین کو جمہوریت کا احترام کرنے کا مشورہ ، ستیہ وتی راتھوڑ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) کانگریس کے نام نہاد قائدین کو تلنگانہ راشٹر سمیتی کی مقبولیت ہضم نہیں ہورہی ہے اسی لئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر تنقید کی جا رہی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل مسز ستیہ وتی راتھوڑ نے آج پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی اور کہا کہ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا اور دو تہائی اکثریت کے سبب اسپیکر اسمبلی مسٹر پوچارم سرینواس نے کانگریس مقننہ پارٹی کو تلنگانہ راشٹر سمیتی مقننہ پارٹی میں ضم کرنے کے سلسلہ میں احکام جاری کردیئے لیکن کانگریس میں شامل بعض ارکان اسمبلی اس کے لئے سربراہ ٹی آر ایس اور حکومت تلنگانہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کی پارٹی نے کبھی کسی دوسری سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائد کو اپنی جماعت میں شامل نہیں کیا ۔مسز ستیہ وتی راتھوڑ رکن قانون ساز کونسل ‘ رکن پارلیمنٹ ایم کویتا‘ مسٹر ایم سرینواس ریڈی رکن قانون ساز کونسل ‘کے علاوہ دیگر نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کانگریس ارکان اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پارٹی میں شامل ہونے والے دیگر سیاسی جماعتو ںکے قائدین کا جائزہ لیں اور پھر دوسروں کو تنقیدکا نشانہ بنائیں۔مسز ستیہ وتی راتھوڑ نے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ مسٹر کے وشویشور ریڈی نے جب کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اس وقت کانگریس کی جانب سے اب دیا جا رہادرس کہا ںتھا۔اسی طرح جب ریونت ریڈی نے تلگو دیشم سے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اس وقت بھی یہ قائدین خاموش تھے۔تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین نے کہا کہ کانگریس ارکان اسمبلی کو جمہوری حق حاصل ہے کہ وہ تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کریں یا اپنی پارٹی میں رہیں۔ان قائدین نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار نہ صرف عوام بلکہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے کیاجارہا ہے تو ایسی صورت میں کانگریس کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے ۔ٹی آر ایس قائدین نے کانگریس کے احتجاجی ارکان اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ جمہوریت کا احترام کریں اور جمہوری حقوق کے استعمال پر احتجاج بند کریں۔