منوگوڑ ضمنی چناؤ
حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حلقہ اسمبلی منوگوڑ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو ریاست میں کانگریس پارٹی کے کمزور ہونے کے عواقب نتائج کا اندازہ ہوا ہے ۔ ٹی آر ایس نے اب یہ محسوس کرلیا ہے کہ اس کی کامیابی کا انحصار کانگریس کی طاقت پر ہے ۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے منوگور نشست پر کامیابی کے لیے ٹی آر ایس کی مدد کی ۔ 2014 اور 2018 کے اسمبلی انتخابات کے بعد ٹی آر ایس نے کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے اس پارٹی میں شامل ہونے والوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ اگر منوگوڑ میں کانگریس کمزور ہوتی تو نتیجہ مختلف ہوتا تھا ۔ ٹی آر ایس ، بی جے پی اور کانگریس کو جو راونڈ واری ووٹس ملے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے ۔ رائے شماری کے راونڈس کے دوران جہاں کانگریس نے اچھی تعداد میں ووٹ حاصل کئے ۔ ٹی آر ایس کو اکثریت حاصل ہوئی اور جب کانگریس کو کم ووٹ حاصل ہوئے تو بی جے پی کو زیادہ تعداد میں ووٹ حاصل ہوئے ۔ دراصل منوگوڑ میں مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان نہیں تھا بلکہ ٹی آر ایس اور کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے درمیان تھا ۔ ٹی آر ایس کو منوگوڑ میں بائیں بازو جماعتوں کی مدد سے کامیابی ملی ۔ حضور آباد ضمنی چناؤ کے مقابل کانگریس نے منوگوڑ میں ایک اچھا مظاہرہ کیا اور اسی وجہ ٹی آر ایس منوگوڑ میں کامیابی حاصل کرپائی ہے ۔ جب کانگریس کمزور ہوجاتی ہے تو بی جے پی اس کا پوزیشن حاصل کرلیتی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹی آر ایس کے لیے بی جے پی سے زیادہ کانگریس کو شکست دینا آسان ہے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے طاقتور ہونے کے لیے ٹی آر ایس ذمہ دار ہے کیوں کہ اس نے کانگریس کو کمزور کردیا ہے اور بی جے پی کے طاقتور بننے میں مدد کی ہے ۔۔