قونصل خانہ کی عنقریب فینانشیل ڈسٹرکٹ کی عصری عمارت میں منتقلی ۔ جنیفر لارسن کا خطاب
حیدرآباد 24 اکٹوبر(سیاست نیوز) حیدرآباد 24 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) حیدرآباد کے امریکی قونصل خانہ میں آخری مرتبہ پائیگاہ پیلس پر امریکی پرچم لہرایا گیا ۔ یہ پرچم سب سے پہلے 14 سال قبل 24 اکٹوبر 2008 کو لہرایا گیا تھا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حیدرآباد میں امریکی قونصل جنرل جنیفر لارسن نے کہا کہ 24 اکٹوبر 2008 کو ہم نے حیدرآباد کے امریکی قونصل خانہ پر پہلی مرتبہ پرچم لہرایا تھا اور آج 14 سال بعد آخری مرتبہ خوبصورت پائیگاہ پیلس پر پرچم لہرایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے 2008 میں حیدرآباد میں قونصل خانہ قائم کیا تھا کیونکہ یہ احساس تھا کہ یہ علاقہ ہند ۔ امریکہ شراکت داری کو اکیسویں صدی میں آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کرے گا ۔ آج بھی وہی صورتحال ہے جو 14 برس قبل تھی ۔ حیدرآباد میں امریکی قونصل خانہ کے مستقبل کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب امریکی قونصل خانہ کو 300 ملین ڈالرس کے صرفہ سے قائم کئے گئے انتہائی عصری عمارت میں شہر کے فینانشیل ڈسٹرکٹ میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ یہاں اسٹاف کیلئے 255 ڈیسک ہیں جبکہ ویزا اور پاسپورٹ خدمات کے 54 ونڈوز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس علاقہ میں اتنی دلچسپی اس لئے لے رہا ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ امریکہ ۔ ہندوستان شراکت داری تلنگانہ ‘ آندھرا پردیش اور اوڈیشہ میں مزید مستحکم ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پائیگاہ پیلس پر امریکی قونصل خانہ نے جب امریکی پرچم لہرایا تھا اسی طرح انہیں امید ہے کہ قونصل خانہ کی نئی عمارت سے اسی طرح کی کئی یادیں وابستہ رہیں گی ۔