پارلیمنٹ مانسون سشن کا پہلا دن ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا

   

نئی دہلی ۔ 20 جولائی (یواین آئی) پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کا پہلا دن پیر کو نیٹ یو جی پیپر لیک، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے اور چڑھاوا چوری کے مسائل پر اپوزیشن کے زبردست ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان مسائل کو اٹھایا، جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں وقفہ سوالات اور وقفہ صفر نہیں چل سکا اور نہ ہی کوئی قانون سازی کا کام کاج ہو سکا۔ ارکان دونوں ایوانوں میں ہنگامہ اور نعرے بازی کرتے رہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بار بار کے التوا کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نیٹ یو جی پیپر لیک اور چڑھاوا چوری لکھی ہوئی تختیاں لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ اسپیکر اوم برلا نے ارکان سے اپنی نشستوں پر لوٹ کر وقفہ سوالات چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اعلیٰ ترین جمہوری ادارہ ہے اور یہاں منتخب ہو کر بھیجے گئے ارکانِ پارلیمنٹ سے عوام کو بڑی توقعات ہوتی ہیں۔ انہوں نے تختیاں لہرانے اور نعرے بازی کو ایوان کے وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیشن کے پہلے دن ایوان نہ چلنے کی روایت اب ختم ہونی چاہیے۔ ہنگامہ نہ تھمنے پر انہوں نے کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی اپوزیشن کا ہنگامہ جاری رہا۔