بی جے پی انڈیا اتحاد سے خوفزدہ، بی آر ایس عوامی فیصلہ کو تسلیم کرے: پونم پربھاکر
حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت جمہوریت کے بجائے ڈکٹیٹر شپ طرز حکمرانی پر قائم ہے۔ پارلیمنٹ میں سیکوریٹی کے مسئلہ پر حکومت سے سوال کرنے والے 90 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کو معطل کرنا افسوسناک ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کے واقعہ کے سلسلہ میں مودی حکومت مباحث سے فرار اختیار کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس قدر بڑی تعداد میں ارکان کو معطل کیا گیا۔ اپوزیشن کا یہ مطالبہ واجبی ہے کہ حملہ کے ذمہ داروں اور ان کی سازش کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت پارلیمنٹ سیکوریٹی میں نقائص کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ بی جے پی رکن کی سفارش پر حملہ آوروں کو پاسیس جاری کئے گئے تھے لیکن اس واقعہ کو ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود حکومت مباحث کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی سیکوریٹی پر وسیع تر مباحث کا مطالبہ کیا اور اپوزیشن ارکان کی معطلی فوری ختم کرنے کی مانگ کی۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ بی جے پی دراصل انڈیا اتحاد سے خوفزدہ ہے اور وہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن اتحاد کو توڑنا چاہتی ہے۔ پونم پربھاکر نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ وہ اقتدار سے محروم ہوچکے ہیں۔ عوام کے فیصلہ کے باوجود بی آر ایس قائدین ابھی بھی برسر اقتدار پارٹی کی طرح رول ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ ہے اور اقتدار کے 100 دنوں میں 6 ضمانتوں پر عمل کیا جائے گا۔