فرش پر پانی ، 793 کروڑ کے خرچ سے تعمیرات پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں
حیدرآباد۔5۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) ملک میں تعمیر کی جانے والی عمارتوں کی چھت ٹپکنے پر مختلف گوشوں کی جانے والی تنقیدوں کے جواب میں اب حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والوں نے مذہبی طنز کرتے ہوئے یہ یاددہانی کروانی شروع کردی ہے کہ مرکزی حکومت کی تعمیرات کی چھتوں کا ٹپکنا دراصل دیوی دیوتاؤں کے آشرواد کی نشانی ہے۔ حکومت نے غضب کردہ اراضی پر جہاں رام مند ر کی عجلت میں تعمیر عمل میں لائی گئی ہے اس عمارت کی چھت ٹپکنے اور ایودھیا میں سیلاب کی صورتحال کو ابھی سوشل میڈیا پر پیش کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا اور نہ ہی گجرات‘ دہلی اور دیگر ائیرپورٹس کی چھت منہدم ہونے کے واقعات پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا کہ اچانک پارلیمنٹ کی نئی تعمیر کردہ عمارت کی چھت ٹپکنے لگی اور پارلیمنٹ کی چھت سے ٹپکنے والے پانی کو فرش پر گرنے سے روکنے کے لئے بکیٹ کا استعمال کیاگیا اور یہ تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ٹیکس دہندگان کی رقم سے تعمیر کی گئی اس عمارت کی تعمیر کو بھی تنقیدوں کا نشانہ بنایا جانے لگا ۔ 793کروڑ کی لاگت سے تعمیر کی گئی اس عمارت کی چھت ٹپکنے کا موازنہ جب پارلیمنٹ کی قدیم عمارت سے کیا جانے لگا اور یہ دعوے کئے جانے لگے کہ پارلیمنٹ کی 100 سالہ قدیم عمارت کی چھت کبھی نہیں ٹپکی لیکن چند ماہ قبل جس عمارت کو مکمل کیا گیا ہے اس عمارت میں بالٹی کے ذریعہ پانی جمع کرنا پڑا۔ مودی حکومت کے دور میں تعمیر کی گئی ان اہم عمارتوں کی چھت ٹپکنے پر جہاں مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جا رہی ہیں وہیں ان تعمیرات کے بعد ان کی چھتوں کے ٹپکنے کو ہندو توا بالخصوص مودی کے حامیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جانے لگا ہے کہ نئی عمارتوں کی چھت ٹپکنا دراصل نئی عمارتوں کے لئے خوش آئند ہوتا ہے کیونکہ نئی عمارتوں کی چھت ٹپکنا ان کے مطابق دیوی دیوتاؤں کی جانب سے نچھاور کی جانے والی خوشیاں ہوتی ہیں۔ ہندستان بھر میں گذشتہ 10برسوں کے دوران کی گئی تعمیرات میں پیدا ہونے والے نقائص کی سوشل میڈیا پر تنقیدوں کا جواب حکومت کی جانب سے دینے کے بجائے حکومت کے حواریوں کی جانب سے ان نقائص کی تائید کی جا رہی ہے ۔ حکومت کے حواری جو یہ باور کروا رہے ہیں کہ یہ دیوی یوتاؤں کی جانب سے نچھاور کی جانے والی خوشیاں ہیں وہ اس بات کو فراموش کر رہے ہیں کہ یہ تعمیراتی ایک نان بائیولوجیکل شخص کے دور حکومت میں کی گئی ہیں۔3