بروسلز: بلجیم میں اپنے 5 بچوں کو گلا کاٹ کر قتل کردینے والی ماں نے 16 سال بعد خود کیلئے بھی موت کا انتخاب کرلیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق 57 سالہ خاتون نے 28 فروری 2007ء کو اپنے ایک بیٹے اور 4 بیٹیوں کو کچن میں موجود چھری سے گلا کاٹ کر قتل کردیا تھا۔رپورٹس کے مطابق خاتون کا شوہر اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق خاتون نے بچوں کو قتل کر کے خود پر چھری کا وار کر کے خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم ناکامی پر اس نے ایمرجنسی اہلکاروں کو مدد کیلئے طلب کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق خاتون نے گھریلو مسائل کے باعث بچوں کو قتل کر کے خودکشی کی کوشش کی تھی۔رپورٹس کے مطابق ملزمہ کو 2008ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم 2019ء میں اسے نفسیاتی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔رپورٹس کے مطابق خاتون کی وکیل نکولس کوہن نے تصدیق کی ہے کہ قتل کی واردات کی 16ویں برسی کے دن خاتون نے خود کیلئے موت کا انتخاب کیا جس کے بعد اسے انجیکشن کے ذریعے مار دیا گیا۔خاتون کی وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی موکل نے مختلف طبی مشوروں کے بعد مرنے کے حوالے سے مخصوص طریقہ کار اپنایا۔ماہر نفسیات ایمیلی ماروئٹ کے مطابق خاتون نے 28 فروری کو علامتی اشارہ کر کے مرنے کا انتخاب کیا۔رپورٹس کے مطابق بیلجیئم کا قانون ناقابل برداشت نفسیاتی، جسمانی، تکلیف دہ اور لاعلاج بیماری میں مبتلا افراد کو اجلازت دیتا ہے کہ وہ انجیکشن کے ذریعے خود کی زندگی کا خاتمہ کرسکیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس قانون کے مطابق اس فیصلے کے وقت انسان کا ہوش میں رہنا ضروری ہے۔
اور اسے اپنی اس خواہش کی وجہ بتانے کے قابل ہونا چاہیے۔