پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر فوری امتناع عائد کیا جائے ‘ وی ایچ پی

   


ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کو خوش کرنے میں مصروف ۔ ریاستی صدر و سکریٹری کی پریس کانفرنس

حیدرآباد 25 ستمبر ( سیاست نیوز ) دائیں بازو کی ہندوتواء تنظیم وشوا ہندو پریشد نے آج مطالبہ کیا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر فوری امتناع عائد کیا جانا چاہئے ۔ ہندو پریشد کے ارکان نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے ملک بھر میں پی ایف آئی کی سازش کو بے نقاب کردیا ہے ۔ وی ایچ پی ریاستی دفتر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پریشد کے ریاستی صدر سریندر ریڈی اور سکریٹری پنڈاری ناتھ نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں سے اولین شہری جیسا سلوک روا رکھتے ہوئے ہندووں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے فوری طور پر پی ایف آئی پر امتناع عائد کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جہاں کہیںحملے ہوتے ہیں ان کی جڑیں حیدرآباد سے آ ملتی ہیں۔ تلنگانہ حکومت اقلیتوں کو خوش کرنے والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے ۔ وہ ووٹ بینک کی سیاست کو نظر میں رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے ۔ حکومت کی اسی پالیسی کی وجہ سے ساری ریاست تلنگانہ دہشت گردوں کا مرکز بنتی جا رہی ہے ۔ تلنگانہ درگا واہنی کی کنوینر وانی سکو بائی نے کہا کہ دسہرہ کے موقع پر ڈانڈیا رقص ہوا کرتا ہے جس میں غیر ہندو افراد کی شمولیت بھی تشویش کا باعث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈانڈیا جیسے کلچرل ایونٹس میں دوسرے مذاہب کے نوجوان ہندو نوجوانوں کے بھیس میںشامل ہوتے ہیں تاکہ لو جہاد کے نام پر ہندو خواتین کو پھانسا جاسکے اور سازشیں کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈانڈیا تقاریب میں صرف ہندو نوجوانوں کو داخلہ دینے کیلئے آدھار کارڈکے ذریعہ شناخت کی جانی چاہئے ۔ تلنگانہ بجرنگ دل کے کنوینر شیو راملو نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سابق میں دئے گئے انتباہ کو نظر انداز کردیا ہے اور اسی وجہ سے مسلمان نوجوان ہندو خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور انہوں نے گنیش جلوس کے دوران ہندو خواتین کو ہراساں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈانڈیا تقاریب میں باؤنسروں کی خدمات حاصل کی جانی چاہئے اور بجرنگ دل کے ارکان بھی تحفظ فراہم کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوان ہندو قائدین پر بم پھینکتے ہوئے خوف کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔