پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی مخصوص طبقہ کے خلاف کارروائی کے مترادف

   

حکومت ہند کی کارروائی دستور میں حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ، امیر جماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی کا ردعمل
حیدرآباد۔28 ۔ستمبر(سیاست نیوز) ملک میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا پرعائدکی گئی پابندی دراصل ایک مخصوص طبقہ کے خلاف کاروائی کے مترادف ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر عائد کی گئی پابندی پر حکومت کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس کی محاذی تنظیموں پر عائد کئے گئے امتناع کی مخالفت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم پر امتناع مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ انہو ںنے حکومت ہند کی کاروائی کو دستور میں حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں کسی بھی تنظیم پر پابندی عائد کرنا درست نہیں ہے۔ جناب سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے نظریات‘ موقف اور پالیسیوں سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن تنظیم پر امتناع عائد کرتے ہوئے کیڈر کو ہراسانی کا سلسلہ شروع کرنے کی دستور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی غیر قانونی حرکت میں ملوث ہوتا ہے یا اس پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن اسے بنیاد بناتے ہوئے تنظیم پر امتناع عائد کیا جانا مناسب نہیں ہے۔ انہو ںنے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت ہند کی کاروائی بالکلیہ طور پر غیر منصفانہ اور غیر جمہوری ہے ۔ جناب سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں ملک نے ایسے کئی شدت پسند اور نفرت کو فروغ دینے کی کوشش کرنے والوں کو دیکھا جنہوں نے ببانگ دہل نفرت پھیلاتے ہوئے زہرافشانی کی ہے اور ان کا تعلق کس جماعت سے ہے اور وہ کن نظریات کے حامل ہیں یہ ہر کوئی جانتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر عائد کی گئی پابندی کو امتیازی سلوک سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام پر اپنا اعتماد بحال کرنے کے لئے پی ایف آئی پر عائد کئے گئے امتناع کو فوری طور پر برخواست کرنے کے اقدامات کرے ۔انہو ںنے ان کاروائیوں کو غیر جمہوری قرار دیا اور کہا کہ نظریات سے اختلاف کا حق ہندستان کا دستور خود فراہم کرتا ہے ۔ جناب سعادت اللہ حسینی نے اس کاروائی کو دستور کی روح سے کھلواڑ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں تنظیموں پر پابندی عائد کرتے ہوئے نظریات کو کچلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اسی لئے حکومت کو اس پابندی کو جلد برخواست کرنا چاہئے ۔م