پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتو ں کو افہام وتفہیم سے کام لینے میر واعظ کا مشورہ

   

سری نگر، 15 جولائی (یو این آئی)حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او کے ) میں جاری حالیہ بے امنی اور کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور وہاں کی مقامی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس بحران کو مذاکرات، تحمل مزاجی اور انسانی حقوق کے احترام کے ساتھ حل کریں۔میرواعظ کی یہ اپیل ان رپورٹس کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جن کے مطابق وہاں پر ہونے والے حالیہ تصادم میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جون سے شروع ہونے والی اس بے امنی کے دوران اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں تقریباً 30 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دوسری طرف سویلینز اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی خبروں سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے ، بالخصوص راولا کوٹ اور پونچھ کے علاقوں سے آنے والی اطلاعات انتہائی دردناک ہیں۔ انہوں نے کہا”لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف جاری بد امنی میں شہریوں اور پولیس اہلکاروں کے جانی نقصان پر مجھے گہرا دکھ اور رنج پہنچا ہے ۔
میری ہمدردیاں اور دعائیں سوگوار خاندانوں اور اس المناک صورتحال سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔”میرواعظ نے پاکستان میں مقیم کشمیری باشندوں (اسٹیٹ سبجیکٹس) کی آئینی اور سیاسی حیثیت کے حوالے سے جاری بحث پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شناخت، نمائندگی اور سیاسی حقوق جیسے حساس مسائل کو وسیع تر عوامی اعتماد اور بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا:”کسی بھی نظامِ حکومت کا جواز اور طاقت بنیادی طور پر ان لوگوں کے رضامندی، اعتماد اور بھروسے پر منحصر ہوتی ہے جن کی وہ خدمت کرتا ہے ۔ ایل او سی کے دونوں طرف ہمارے مشترکہ سماجی، ثقافتی اور خاندانی روابط ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے ایک حصے میں ہونے والے واقعات کا اثر دوسرے حصے اور دنیا بھر میں مقیم ہماری برادریوں پر گہرا ہوتا ہے ۔”