خفیہ ایجنٹ خاتون نے ہنی ٹریپ میں پھنسایا، پردیپ کیساتھ ڈرائیور کی بھی عدالتی تحویل
حیدرآباد : /6 اکٹوبر (سیاست نیوز) آندھرا پردیش پولیس کی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیل (سی آئی سی )نے مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ایک کارندہ کو بحریہ سے متعلق حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے نیوی سیلر پردیپ مکھرجی اور اس کے ساتھی خانگی ڈرائیور سائی ورا پرساد کو عدالت میں پیش کیا۔ جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ واضح رہے کہ 31 سالہ پردیپ مکھرجی کا تعلق مغربی بنگال سے بتایا گیا ہے اور وہ 2014 ء میں ہندوستانی بحریہ(انڈین نیوی) میں شامل ہوا تھا۔ وہ وشاکھاپٹنم میں ایسٹرن نیول کمانڈ کے تحت خدمات انجام دے رہا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہ کوئمبتور کے INS Agrani میں مینجمنٹ ڈیولپمنٹ کورس میں شرکت کر رہا تھا۔ تحقیقاتی عہدیداروں کے مطابق، ایک مبینہ پاکستانی خاتون خفیہ ایجنٹ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ پردیپ سے رابطہ قائم کیا اور رفتہ رفتہ آن لائن تعلقات استوار کرتے ہوئے اسے ’ہنی ٹریپ‘ میں پھنسایا۔ الزام ہے کہ اس کے ذریعہ وشاکھاپٹنم نیول بیس، بحری اثاثوں، بیڑے کی نقل و حرکت اور دیگر حساس آپریشنل معلومات حاصل کی گئیں۔ کاؤنٹر انٹیلیجنس حکام کو مشتبہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کا پتہ چلنے کے بعد پردیپ پر مسلسل نظر رکھی جارہی تھی اور اس کی نقل و حرکت کا تعاقب کیا جارہا تھا۔ بعد ازاں شواہد کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کار اس بات کا بھی پتہ لگا رہے ہیں کہ کتنی حساس معلومات مبینہ طور پر افشا کی گئیں اور آیا اس معاملہ میں مالی لین دین یا دیگر افراد کا بھی کوئی کردار ہے۔ آندھراپردیش پولیس کے مطابق معاملہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس جاسوس نیٹ ورک میں نیوی کے 13 عہدیدار بھی شامل ہونے کا شبہ ہے اور مبینہ جاسوسی نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ب