نئی دہلی، یکم اکتوبر (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ یونین پبلک سروس کمیشن اور ریاستی سلیکشن کمیشنوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق انتخاب کے معیار اور بھرتی کے عمل میں تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔وزیرِ اعظم نے جمعرات کے روز یہاں بھارت منڈپم میں یونین پبلک سروس کمیشن کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل میں صرف تعلیمی قابلیت ہی نہیں، بلکہ عوام کی خدمت کا جذبہ، پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور مستقبل کے چیلنجوں کو سمجھنے کی صلاحیت کو بھی پرکھا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی کے نظم و نسق کی بنیاد عوام دوست، متحرک اور گڈ گورننس (اچھا نظامِ حکومت) ہونا چاہیے ۔ ‘ناگرک دیوو بھو’ کو نظم و نسق کی بنیاد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریوں کی خدمت اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ انہوں نے بھرتی کے عمل میں ایسے افسران کے انتخاب پر زور دیا جو مسائل کا پہلے سے اندازہ لگائیں، نئے حل تلاش کریں اور قوانین کے اثرات کو شہریوں کے نقطۂ نظر سے سمجھیں۔وزیرِ اعظم نے امتحانات منعقد کرانے میں لگنے والے وقت کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے ۔ وزیرِ اعظم نے کہاکہ “ہمیں امتحان کو صرف ایک تقریب (ایونٹ) کے طور پر نہیں دیکھنا ہے ۔ یہ ایونٹ سے کہیں زیادہ نوجوانوں کے مستقبل سے ، ان کی زندگی سے جڑا ہوا موضوع ہے ۔ امتحانات میں کچھ مہینوں کی تاخیر نوجوانوں کے لیے بڑا بحران بن سکتی ہے ۔ کوچنگ کی فیس، کرایہ، ٹرانسپورٹ کا خرچ، یہ اس خاندان پر بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے ۔
اس لیے ، ہمارے امتحانی نظام میں وقت کے تعین کے اصول کو اپنانا انتہائی ضروری ہے ۔ اس لیے ، ملک کے تمام سلیکشن کمیشنوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ معیار میں کمی کیے بغیر، ہماراایگزامینیشن سائیکل کس طرح چھوٹا ہو؟”