پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں پر حکومت کی کوئی پیشرفت نہیں

   


ایئرپورٹ ایکسپریس راہداری کا آئندہ ماہ سنگ بنیاد کے اعلان پر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔27۔نومبر۔ ریاستی حکومت ترقیاتی اقدامات کے معا ملہ میں پرانے شہر کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کررہی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں 500 کروڑ کی بجٹ میں تخصیص کے بعد سمجھا جا رہا تھا کہ ریاستی حکومت پرانے شہر میں میٹروریل کے کاموں کا آغاز کیا جائے گا لیکن اب تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور اب ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے اپنے ٹوئیٹر کے ذریعہ اس بات کا اعلان کیا ہے کہ مائنڈ اسپیس جنکشن سے شمس آباد ائیر پورٹ تک 6250 کروڑ کی لاگت سے 31 کیلو میٹر طویل ائیرپورٹ ایکسپریس میٹرو راہداری کی تعمیر کے لئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ 9ڈسمبر کو سنگ بنیاد رکھیں گے اور اندرون 3سال 31کیلو میٹر طویل اس راہداری کے تعمیری کاموں کو ریاستی حکومت کے بجٹ سے مکمل کرلیا جائے گا۔ شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل پراجکٹ کا ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور میں آغاز کیا گیا تھا اور اس کے پہلے مرحلہ میں حکومت نے پرانے شہر میںمہاتما گاندھی بس اسٹیشن(املی بن) تا فلک نما پیالس 5.5کیلو میٹرطویل راہداری کومنظوری فراہم کی تھی اور سال 2012میں شروع کئے گئے پراجکٹ کے پہلے مرحلہ میں ہی پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا ء پر اس میں ہونے والی تاخیر کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور جاریہ بجٹ میں ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے لئے 500 کروڑ روپئے کی تخصیص کا اعلان کیا گیا تھا 10 سال بعد فلک نما تا املی بن کی اس راہداری کے سلسلہ میں مختص کردہ بجٹ کے متعلق دریافت کرنے پر حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تخصیص کا اعلان کیا گیا ہے لیکن بجٹ کی عدم موجودگی کے سبب اس راہداری پر میٹرو ریل کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کا آغاز ممکن نہیں ہے لیکن اب ریاستی وزیر کی جانب سے مائینڈ اسپیس جنکشن تا شمس آباد ائیر پورٹ تک کے لئے ائیر پورٹ ایکسپریس میٹرو ریل کے آغاز اور اس کے سنگ بنیاد کے کی تاریخ کا اعلان کئے جانے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کے پاس پرانے شہر کے عوام کے مسائل کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ پرانے شہر کو ترقی دینے کے حق میں نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 31کیلو میٹر کی راہداری کے لئے 6ہزار 250کروڑ روپئے خرچ کرنے کے لئے بجٹ موجود ہے لیکن پرانے شہر میں 5.5کیلو میٹر کی راہداری کیلئے 500کروڑ روپئے نہیں ہیں ۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات یا شہر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی حیدرآباد میٹرو ریل کے سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز کیا جاتا ہے اور جب انتخابات کا عمل مکمل ہوتا ہے تو پرانے شہر کے عوام کے لئے میٹرو کی سہولت کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی جاتی اس سلسلہ میں گذشتہ 10 سال کے دوران متعدد مرتبہ یہ اعلان کیا جاچکا ہے کہ اندرون 4سال ان کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا لیکن پرانے شہر کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ فلک نما تا املی بن 5.5کیلو میٹرکی اس راہداری پر اب تک میٹرو ریل کے کاموں کاآغاز نہیں کیا جاسکا ہے لیکن حکومت کی دلچسپی ائیر پورٹ کو میٹرو سے مربوط کرنے کے لئے گچی باؤلی کی راہداری استعمال کرنے کے سلسلہ میں پیشرفت کی جاچکی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ 9 ڈسمبر 2022 کو مائینڈاسپیس جنکشن سے شمس آباد ائیر پورٹ تک کی اس راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں اور اسے اندرون 3سال مکمل کرنے کے منصوبہ ہے اگر اس میں تاخیر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں آئندہ 5برسوں میں بھی یہ پراجکٹ مکمل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں شہر کے نواحی و مضافاتی علاقہ میٹرو ریل سے مربوط ہوجائیں گے کیونکہ ناگول سے مائینڈ اسپیس جنکشن ۔ کوکٹ پلی ۔میاں پور اور ایل بی نگر تک میٹروریل کی سہولت موجود ہوجائے گی لیکن پرانا شہر مکمل طور پر نظرانداز رہے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نہ صرف مائینڈ اسپیس جنکشن تا شمس آباد ائیر پورٹ میٹرو ریل کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ اس بات کی بھی اطلاع دی ہے کہ شہر میں میٹرو ریل کو مزید31 کیلو میٹر وسعت دینے کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کو تفصیلی پراجکٹ رپورٹ بھی روانہ کی جاچکی ہے ۔ پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں حکومت کے سوتیلے رویہ سے یہ آشکار ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کو پرانے شہر یا اس کے عوام کے مسائل حل کرنے میں یا انہیں سہولتوں کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ چیف منسٹر نے پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کے اعلانات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پرانے شہر کو تاریخی و تہذیبی ورثہ کے حامل شہر کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن اگر حکومت فوری طور پر صرف 11 کیلومیٹر کی میٹروریل راہداری پر تعمیری و ترقیاتی کاموں کا آغاز کرتی ہے تو پرانے شہر کے عوام کو بڑی راحت حاصل ہوگی۔