پریمیئم کے لحاظ سے عالمی سطح پر تیسری سب سے بڑی بیمہ اسکیم، پی ایم ایف بی وائی کی وضاحت
نئی دہلی: پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے نفاذ کے پچھلے 8 سالوں میں 56.80 کروڑ کسانوں کی درخواستوں کا اندراج کیا گیا ہے اور 23.22 کروڑ سے زیادہ کسان درخواست دہندگان نے دعوے وصول کیے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کسانوں نے اپنے پریمئم کے حصے کے برخلاف تقریباً 31,139 کروڑ روپے ادا کیے تھے ،جو انہیں 1,55,977 کروڑ روپے دعوے کے طورپرادا کیے گئے ہیں۔ اس طرح، کسانوں کی طرف سے ادا کیے گئے پریمیم کے ہر 100 روپے کے بدلے ، انہیں تقریباً دعوے کے طورپر500 روپے موصول ہوئے ہیں۔پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) ایک مانگ پر مبنی اسکیم ہے اور ریاستوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے رضاکارانہ ہے ۔ 2021-22 اور2022-23 کے دوران سال بہ سال کسانوں کی درخواستوں کی تعداد میں بالترتیب 33.4فیصد اور 41فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ مزید برآں، سال 2023-24کے دوران، اب تک اس اسکیم کے تحت اندراج شدہ کسانوں کے لحاظ سے 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ مالی سال 2023-24 میں اسکیم کے تحت بیمہ شدہ کل کسانوں میں سے 42فیصدغیر قرضدار کسان ہیں۔پریمیم کے لحاظ سے عالمی سطح پر تیسری سب سے بڑی بیمہ اسکیم، 2016 میں شروع کی گئی پی ایم فصل بیمہ یوجنا، کسانوں کو فصل کے نقصان یا غیر متوقع حالات سے ہونے والے نقصان سے بچاتی ہے ۔ پی ایم ایف بی وائی اسکیم کے مقاصد کو کامیابی کے ساتھ پورا کر رہا ہے جس میں خاص طور پر قدرتی آفات سے متاثرہ موسموں/سالوں/علاقوں میں کسانوں کی آمدنی کو مستحکم کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنا شامل ہے ۔ پی ایم بی ایف وائی ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ہے ، اس مرکزی اسکیم کے لیے نہ تو کوئی رقم مختص کی جاتی ہے اور نہ ہی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کوئی فنڈ جاری کیا جاتا ہے ۔