پروفیسر سائی بابا ممبئی ہائیکورٹ سے بری

   

ممبئی : دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سائی بابا کو بمبئی ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔ قبل ازیں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جسے منسوخ کر دیا گیا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے منگل کی صبح اپنا فیصلہ سنایا۔ اطلاعات کے مطابق پروفیسر سائی بابا کو مہاراشٹر پولس نے ماؤنوازوں سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ الزام ہے کہ دہلی میں ان کی رہائش گاہ سے ماؤنواز لٹریچر ملا تھا۔ 2017 میں، ایک سیشن عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔انہوں نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔14 اکتوبر 2022 کو پروفیسر سائی بابا کو بری کر دیا تھا تاہم، مہاراشٹر حکومت نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کو دوبارہ ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے بھیجا تھا۔جسٹس ونئے جوشی اور والمیکی ایس اے مینیزس کی ڈویڑن بنچ نے کہا کہ تمام ملزمین کو بری کردیا کیونکہ استغاثہ ان کے خلاف معقول ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔