جے پور : ریاستی حکومت کی ہدایت کے باوجود راجستھان یونیورسٹی کے چھ اسسٹنٹ پروفیسروں نے انہیں ترقی کا فائدہ نہ دینے پر ساتویں دن بھی اپنا احتجاج جاری رکھا۔یہ اسسٹنٹ پروفیسر اس معاملے پر گزشتہ 26 دسمبر سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ 28 فروری، 20 اکتوبر کو ریاستی حکومت کے احکامات، 5 مئی اور 26 دسمبر کے سنڈیکیٹ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے وہ تمام چھ اسسٹنٹ پروفیسروں کو ترقی کا فائدہ دینے کے مطالبہ پر دھرنا دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چھ اسسٹنٹ پروفیسروں کے پروموشن کے سلسلے میں ریاستی حکومت نے 28 فروری اور 20 اکتوبر کو احکامات کے ذریعے راجستھان یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ انہیں 272 دیگر اساتذہ کے برابر سمجھتے ہوئے پروموشن کا فائدہ دیا جائے ۔ یونیورسٹی نے آج تک ایسا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے ان چھ اساتذہ کے بارے میں ریاستی حکومت کے دونوں احکامات کو 5 مئی اور 26 دسمبر کو منظور کیا ہے ۔ اس کے بعد بھی یونیورسٹی انتظامیہ نہ تو ریاستی حکومت کے احکامات پر عمل کر رہی ہے اور نہ ہی یونیورسٹی سنڈیکیٹ، جبکہ آج تک یونیورسٹی میں یہ اصول رہا ہے کہ سنڈیکیٹ/حکومت کے فیصلے کو بلا تاخیر نافذ کیا جاتا ہے ۔احتجاج کرنے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ 6 اساتذہ میں سے ایک ڈاکٹر رمیش چاولہ 272 اساتذہ میں واحد شیڈول کاسٹ ٹیچر ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ انہیں پروموشن نہ دے کر ان کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔