7 آسام میں یکساں سیول کوڈ … بنگال میں بنگلہ دیشی کا نعرہ
7 SIR مہم میں دھاندلیاں … سپریم کورٹ بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ
رشیدالدین
’’بلی تھیلے کے باہر‘‘ اسمبلی چناؤ کے ساتھ ہی آسام اور مغربی بنگال میں بی جے پی کا حقیقی رنگ اور ایجنڈہ بے نقاب ہوچکا ہے ۔ ہندو رائے دہندوں کو متحد کرنے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو مہم چلائی گئی اس کی کامیابی کے بعد ہندوتوا ایجنڈہ کو نافذ کیا جارہا ہے۔ آسام میں یکساں سیول کوڈ نافذ کردیا گیا جبکہ مغربی بنگال میں فہرست رائے دہندگان سے خارج کردہ مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ شبہ کی بنیاد پر مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھا جائے گا اور انہیں بنگلہ دیش کی سرحد میں جبراً ڈھکیل دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی SIR مہم اور نفرتی ایجنڈہ نے آسام اور مغربی بنگال میں بی جے پی کو کامیابی دلائی۔ ملک کو ہندو راشٹر قرار دینے کے منصوبہ کے تحت بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جارہا ہے جو ہندو راشٹر کی سمت اہم پیش قدمی ہے۔ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے ذریعہ مسلمانوں کی حمیت اور جذبہ ایمانی کا امتحان لیا جارہا ہے۔ بی جے پی دیکھنا چاہتی ہے کہ شریعت کے خلاف قانون سازی کی مزاحمت کی جائے گی یا پھر اسے قبول کرلیا جائے گا۔ طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں قانون سازی ہوچکی ہے اور ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے ذریعہ دیگر عائیلی قوانین کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔ کثرت ازدواج پر پابندی اور وراثت کے قانون کے تحت خواتین کو مساوی حصہ داری دی جائے گی۔ آسام حکومت نے شادی کے بغیر ازدواجی رشتہ قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے بے حیائی کو فروغ دینے اور سماج میں بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ لیو ان ریلیشن شپ کو قانونی شکل دے دی گئی جس کے تحت جنم لینے والے بچوں کو بھی قانونی درجہ حاصل رہے گا۔ سماج میں بے راہ روی اور بے حیائی پہلے سے عروج پر ہے اور لیو ان ریلیشن شپ کی اجازت دراصل خاندانوں کو تباہی سے دوچار کرنا ہے ۔ نوجوان نسل اپنی مرضی سے کسی بھی مذہب کے ماننے والے کے ساتھ شادی کے بغیر جسمانی رشتہ قائم کرسکتے ہے جو ہندوستان کی روایتی تہذیب اور تمدن کے خلاف ہے۔ نوجوانوں کیلئے عیش و عشرت کا سامان کرتے ہوئے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔ آسام ملک کی چوتھی ریاست بن چکی ہے جہاں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا گیا ۔ گوا ، اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد آسام میں قانون سازی کے ذریعہ مسلمانوں اور ان کی شریعت کو نشانہ بنایا گیا۔ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دستور میں ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب پر نہ صرف عمل کرنے بلکہ اس کے فروغ کی اجازت دی ہے لیکن دستور کا ملک میں پاس و لحاظ اور احترام باقی کہاں رہا۔ سپریم کورٹ جسے دستور کے محافظ کا درجہ حاصل ہے ، وہ بھی بیشتر معاملات میں حکومت کے اشاروں پر کام کر رہا ہے ۔ حکومت کے خلاف عدلیہ سے فیصلہ کی امید کرنا فضول ہے۔ 2014 کے بعد مودی حکومت نے جس طرح دستوری اداروں پر کنٹرول حاصل کیا، اس کی مثال شائد ہی دنیا کا کوئی ملک پیش کرسکے۔ ظاہر ہے کہ عدلیہ سے انصاف کی امید ختم ہوجائے تو پھر یکساں سیول کوڈ کے خلاف کون ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا ۔ مغربی بنگال میں پہلی مرتبہ اقتدار نے بی جے پی کو بے قابو کردیا۔ چیف منسٹر سویندو ادھیکاری انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف جس طرح زہر اگلتے رہے، چیف منسٹر بنتے ہی مخالف مسلم فیصلوں کا آغاز کردیا۔ مساجد کے باہر نماز کی اجازت ختم کردی گئی اور عیدالاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کے ذبیحہ سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ ہراسانی اور حملوں سے عاجز آکر مغربی بنگال کے مسلمانوں نے تدبر اور حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے جانوروں کی خریدی نہ کرنے کا اعلان کردیا ۔ پھر کیا تھا ہزاروں ہندو تاجر سڑکوں پر نکل آئے اور خودکشی کی دھمکی دی ۔ بڑے جانور کے تاجروں کی اکثریت کا تعلق ہندو طبقہ سے ہے اور اگر جانوروں کی فروخت بند ہوجائے تو وہ معاشی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ مسلمانوں کی حکمت رنگ لائی اور چیف منسٹر سویندو ادھیکاری کو بیان دینا پڑا کہ مسلمان اپنے گھروں میں بڑے جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں بالخصوص اترپردیش ، دہلی ، بہار اور گجرات میں ذبیحہ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ۔ عید کے دن مسلمانوں کو کئی مقامات پر عیدگاہ میں نماز کی ادائیگی سے روکا گیا۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کا مقصد مسلمانوں کے حوصلے پست کرنا اور ان میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ ہندو راشٹر کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ مرکز میں مودی حکومت کی من مانی اور دستور اور قانونی اداروں کی اہمیت گھٹانے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ہر سال یوم جمہوریہ کے موقع پر مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات پر اہمیت شخصیتوں کو پدم ایوارڈس پیش کئے جاتے ہیں جو ہندوستان کا سیویلین اعزاز ہے ۔ اس مرتبہ مہاراشٹرا کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کے لئے کوشیاری کی ایسی کیا خدمات ہیں کہ جن کے اعتراف میں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دستوری عہدہ پر فائز ایک شخص کے فیصلوں کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دیا لیکن مرکزی حکومت ایسے شخص کو ملک کا سیویلین اعزاز عطا کرے ؟ مودی ہے تو ممکن ہے کہ عین مطابق یہی کچھ ہوا جس پر قانون اور دستور کے ماہرین حیرت زدہ ہیں۔ بھگت سنگھ کوشیاری جس وقت گورنر تھے، مہاراشٹرا کی شیوسینا میں پھوٹ پڑی اور باغیوں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی۔ گورنر نے نئی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے حلف دلایا تھا۔ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو عدالت نے گورنر کے فیصلہ کو غیر قانونی اورغیر دستوری قرار دیا لیکن مرکز نے گورنر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی شیوسینا حکومت کو بحال کیا گیا۔ تین سال بعد مرکزی حکومت نے کوشیاری کو پدم بھوشن کا تحفہ دیا۔ تین سال قبل جو شخص غیر دستوری کام کر رہا تھا، اسے سیویلین اعزاز حکومت کی تانا شاہی کا کھلا ثبوت ہے۔ اسی طرح حکومت کے حق میں فیصلے سنانے والے ججس کو ریٹائرمنٹ کے بعد عہدوں سے نوازا جارہا ہے ۔
سپریم کورٹ نے فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم SIR کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن کو کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔ بہار میں SIR کے خلاف دائر کئے گئے مقدمہ کا فیصلہ سنادیا گیا اور سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کا ہر فیصلہ درست تھا۔ مقدمہ اگرچہ بہار کے الیکشن سے قبل دائر کیا گیا تھا لیکن فیصلہ مغربی بنگال ، آسام اور ٹاملناڈو الیکشن کے بعد آیا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ الیکشن کمیشن کا رول بی جے پی ایجنٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ جمہوریت میں رائے دہندے حکومت کو منتخب کرتے ہیں لیکن ہندوستان میں الیکشن کمیشن کی مدد سے حکومت رائے دہندوں کا انتخاب کر رہی ہے۔ حکومت کو صرف وہی رائے دہندوں کی ضرورت ہے جو اس کے حق میں ووٹ دے سکیں۔ مخالفین کے ناموں کو چن چن کر فہرست سے نکالا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے نتیجہ میں الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے نئے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے رائے دہندوں کے لئے نام کی شمولیت کی شرائط کا تعین کریں۔ الیکشن کمیشن نے ہر ریاست میں الگ الگ دستاویزات کو فہرست رائے دہندگان میں شمولیت کا معیار قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بی جے پی کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ عوام کی شہریت طئے کرنے کا موقع مل جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی ساکھ ملک بھر میں بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کمیشن پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوچکا ہے۔ ان حالات میں سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو کلین چٹ دیا جانا جمہوریت کیلئے نقصاندہ ہے۔ بہار اور مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی الیکشن کمیشن کی مرہون منت ہے۔ ملک کی اہم سیاسی پارٹیوں نے ایس آئی آر مہم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ مغربی بنگال میں 90 لاکھ سے زائد ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرتے ہوئے ممتابنرجی کی شکست کا سامان کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی کی درخواست پر تیقن دیا تھا کہ ایک بھی حقیقی رائے دہندہ کے نام کو فہرست سے حذف کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جس طرح بہار معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، لہذا مغربی بنگال کے ایس آئی آر معاملہ میں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ملک کے حالات پر بشیر بدر کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا