عداوتوں کی زمیں دیکھی ہے جہاں ہم نے
محبتوں کی وہاں داغ بیل ڈالی ہے
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ۔ ان کے نتائج کا اعلان بی کردیا گیا اور جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں برسر اقتدار عام آدمی پارٹی رائے دہندوں پر اب بھی اپنی گرفت مضبوط بنائے ہوئے ہے ۔ جو لوور اور مڈل کلاس کا ووٹر ہے وہ اب بھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ برقرار ہے ۔ اسی ووٹر کی تائید اور ووٹ کے نتیجہ میںعام آدمی پارٹی کو 2022 میںہوئے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تھی اور کانگریس اقتدار سے بیدخل ہوئی تھی ۔ عام آدمی پارٹی کی بھگونت مان حکومت ان ووٹرس کو اب بھی اپنا ہمنواء بنائے رکھنے میں کامیاب ہے اور جو بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتائج سے بھی اس کی توثیق ہوتی ہے ۔ ریاست میں جملہ 1977 وارڈز کیلئے بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے اور برسر اقتدار عام آدمی پارٹی نے ان میں جملہ 958 وارڈز پر کامیابی درج کروائی ہے ۔ 80 وارڈز میں بلا مقابلہ انتخاب عمل میں آیا تھا ۔ اس طرح سے عام آدمی پارٹی کو کئی بلدیات اور میونسپل کونسلوں میں اکثریت حاصل ہوئی ہے اور کانگریس و شرومنی اکالی دل بہت فاصلے پر دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ریاست میں اقتدار کے خواب دیکھنے والی بی جے پی کیلئے صورتحال اور بھی مایوس کن کہی جاسکتی ہے کیونکہ یہاں بی جے پی پانچویں نمبر پر آئی ہے ۔ اس نے جملہ 172 وارڈز پر کامیابی درج کی ہے جبکہ آزاد امیدواروں نے 251 وارڈز جیتے ہیں۔ اس طرح بی جے پی آزاد امیدواروں سے بھی بہت پیچھے رہ گئی ہے ۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کافی اہمیت کے حامل قرار دئے جاسکتے ہیں خاص طور پر اس تناظر میں جبکہ آئندہ سال ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے انتخابات کا سامنا کرنے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ ریاست میں پارٹی کے نئے صدر کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سات ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔اس کے باو جود بی جے پی کیلئے بلدیاتی انتخابات کے نتائج حوصلہ افزاء ہرگز نہیں کہے جاسکتے ۔ پارٹی کو لازمی طور پر اپنی انتخابی کارکردگی کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
کانگریس پارٹی نے حالانکہ وارڈز کی تعداد کے اعتبار سے دوسرا مقام حاصل کیا ہے اور اسے جملہ 397 وارڈز میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن کانگریس کی کارکردگی بھی اطمینان بخش نہیں کہی جاسکتی ۔ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کی کارکردگی میں بہتری کی ضرورت تھی جو نہیںدیکھی گئی اورا س صورتحال میں کانگریس کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں بھی استحکام پیدا کرنے کے تعلق سے اقدامات کرے ۔ عوام سے رابطوں کو مستحکم کیا جائے ۔ عوام کے مسائل پر آواز اٹھائی جائے اور عوام کی تائیدو حمایت دوبارہ حاصل کرنے کیلئے منصوبے بندی کی جائے ۔ جہاں تک عام آدمی پارٹی کی بات ہے تو اس نے اپنی انتخابی کارکردگی کے ذریعہ بی جے پی کو کرارا جواب ضرور دیدیا ہے ۔ پارٹی نے یہ واضخ کردیا ہے کہ حالانکہ نامزد ارکان پارلیمنٹ ضرور بی جے پی کی گود میں جا بیٹھ سکتے ہیں لیکن عوام اب بھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہیں اور جمہوریت میں عوام کی تائید و حمایت ہی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ اپنے ووٹ کے ذریعہ پنجاب کے عوام نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ بھگونت مان حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ بھگونت مان جس طرح سے پنجاب کو چلا رہے ہیں اس کے نتیجہ میں پنجاب میں بھی صورتحال تبدیل ہونے لگی ہے ۔ حالانکہ ان کی کارکردگی میں مزید بہتری کی گنجائش ضرور ہے اور ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے تاہم اپنی جانب سے بھگونت مان جو کچھ بھی کوشش کر رہے ہیں وہ اچھی ہی کہی جاسکتی ہے ۔ بلدیاتی انتخابی نتائج سے تو کم از کم یہی تاثر ملتا ہے اور یہی بات پارٹی کیلئے اطمینان بخش ہے ۔
اب جبکہ پنجاب میں اسمبلی انتخابات کیلئے محض ایک سال کا وقت رہ گیا ہے تو یہ ضرور ہے کہ سیاسی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوگی ۔ یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ بی جے پی کی جانب سے پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو بھی انحراف کیلئے اکسانے کی کوشش کی جائے گی ۔ انہیں بھی لالچ دیا جائے گا تاہم عوام کے موڈ نے یہ واضح کردیا ہے کہ سیاسی سازشوں اور الٹ پھیر کے ذریعہ عوام کے ووٹ حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔ جو جماعتیں پنجاب میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں ہیں ان کا خواب محض توڑ جوڑ کے ذریعہ پورا نہیں ہوسکتا ۔ اس کیلئے عوام کا دل جیتنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام فی الحال بھگونت مان کی حکومت ٹھیک طرح سے کر رہی ہے ۔ کانگریس کو ضرور اپنی سیاسی حکمت عملی کے تعلق سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور آئندہ سال کے انتخابات کیلئے تیاری پر توجہ دینی چاہئے۔
امتحانات بھی غیر محفوظ
ملک میں امتحانات کا انعقاد جن حالات کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے وہ قابل تشویش ہے ۔ طلباء کئی برسوں تک لگاتار محنت کرتے ہوئے آنکھوں میں خواب سجائے توقعات کے ساتھ امتحان تحریر کرتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میںامتحانات کا انعقاد بھی کئی طرح کی بدعنوانیوں کا شکار ہوگیا ہے یا پھر امتحانات غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔ شائد ہی کوئی امتحان ایسا ہو جو کسی رکاوٹ یا بدعنوانی سے پاک ہو رہا ہو ۔ ملک میں نیٹ کا پرچہ لیک ہوگیا ۔ لاکھوں طلباء و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ۔ اس کے بعد سی بی ایس ای کے امتحانی نتائج میں بھی طلباء کو بدعنوانیوں کی شکایات درپیش رہی ہیں۔ نشانات کی اجرائی میں الٹ پھیر کے الزامات سامنے آئے تھے اور آج CUET-UG کے امتحان میں بھی ملک کے کئی مراکز پر تکنیکی خرابی کی وجہ سے تاخیر ہوئی ۔ کچھ مراکز پر طلباء نے شکایت کی کہ انتظامیہ کی غلطی کے باوجود انہیں پورا امتحان تحریر کرنے کا موقع نہیں مل سکا ۔ امتحان کا تاخیر سے آغاز ہوا تاہم وقت سے پہلے ہی ان سے پرچے چھین لئے گئے اور وہ پورا پرچہ تحریر کئے بغیر امتحانی مرکز سے باہر نکال دئے گئے ۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کیونکہ طلباء کا مستقبل ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے اور حکومت انتہائی لاپرواہی کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ اس معاملے میں حکومت کو سنجیدہ ہونے اور طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔