پولیس اور مہیلا کارکنوں میں جھڑپ، مہیلا قائد کی طبیعت بگڑگئی

   

علاج کیلئے نمس منتقلی، تین گھنٹے تک طبی امداد نہ دینے کی شکایت
حیدرآباد۔7 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مہیلا کانگریس کی جانب سے ودیوت سودھا کے گھیراؤ کے موقع پر اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب پولیس سے جھڑپ کے دوران مہیلا کانگریس کی ایک قائد کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں ہنگامی طور پر نمس منتقل کیا گیا۔ برقی شرحوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کی اپیل پر ریاستی صدر سنیتا راؤ کی قیادت میں مہیلا کانگریس کے کارکن ریالی کی شکل میں برقی کے دفتر ودیوت سودھا پہنچے ۔ پولیس اور مہیلا کارکنوں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی اور جیسے ہی گرفتاریوں کا آغاز ہوا ، مہیلا کارکنوں نے پولیس کو ڈھکیل دیا ۔ اس جھڑپ میں پولیس نے احتجاجیوں کے ساتھ زیادتی کی جس کے نتیجہ میں مہیلا کانگریس کے قائد ودیا ریڈی بیہوش ہوکر گر پڑیں، انہیں فوری نمس منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی وارڈ میں شریک کرتے ہوئے علاج کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مہیلا قائد کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہوا اور تین گھنٹوں تک ڈاکٹرس کی ٹیم نے معائنہ تک نہیں کیا۔ سنیتا راؤ نے ڈاکٹرس کے رویہ پر سخت ناراضگی جتائی ۔ انہوں نے کہا کہ نمس جیسے ہاسپٹل میں مریضوں کے ساتھ یہ سلوک افسوسناک ہے۔ صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ڈائرکٹر نمس سے فون پر بات چیت کی اور مہیلا قائد کے موثر علاج کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹرس کے رویہ کی شکایت کی اور کہا کہ فوری طبی امداد دی جائے۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، مدھو یاشکی گوڑ اور دیگر کانگریس قائدین نمس پہنچ گئے جہاں انہوں نے مہیلا قائد کی عیادت کی اور ڈاکٹرس سے بات چیت کی ۔ کانگریس قائدین نے پولیس کے رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ خواتین کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ ر