کچھ خواتین کو پکوان کا کافی شوق ہوتا ہے ۔ وہ بڑے ہی چاؤ سے نت نئے پکوان بناکر اپنے گھر والوں کو کھلاتی ہے اور خوش بھی ہوتی ہے ۔ پکوان کی اگر تعریف کی جائے تو اُس کی خوشی اور بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنی تھکن بھی بھول جاتی ہے ۔ پکوان عورت کی زندگی کا ایک لازمی جُز ہے لیکن آج کل کچھ خواتین پکوان کو عار محسوس کررہی ہیں ۔ اکثر گھروں میں یہ عالم ہے کہ دو وقت کا کھانا باہر سے منگوایا جاتا ہے اور کچھ گھروں میں پکانے کیلئے ملازموں کو رکھا جارہا ہے ۔ ضرورت اور حالات کے اعتبار سے ملازموں کو رکھنا غلط نہیں ہے لیکن کوشش یہ ہونی چاہئے کہ گھر کی عورتیں خود پکوان کریں ، صفائی بھی رہتی ہے اور من پسند بھی بن جاتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی دعوت کرنی ہوتی تو پچیس سے پچاس لوگوں کا کھانا گھر پر تیار کیا جاتا تھا ۔ گھر کے خواتین اور رشتہ دار مل کر ہنستے بولتے پکوان کرتے تھے مسالے کی خوشبو پکوان کی خوشبو سے سارا گھر مہکتا تھا ۔ بڑے پکوان اکثر لکڑی پر تیار کئے جاتے تھے ۔ لکڑی کے پکوان کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا تھا اور پھر گھر کے پینے کھانے میں برکت بھی بہت ہوتی تھی ۔ مہمان کھانے کے بعد بھی ڈھیر سارا کھانا بچ جاتا تھا ، نہ جانے کہاں کھوگئے وہ دن ، آج کل تو اس کا تصور بھی محال ہوگیا ہے ۔ دعوتیں تو عام ہوگئی ہیں لیکن پکوان کم ہوگیا ہے ۔ کیٹرنگ جب سے آیا ہے گھر میں پکانے کا رواج ہی ختم ہوگیا ہے ۔ شاذ و نادر ہی گھروں میں پکایا جارہا ہے۔ یوں بھی آج کل کے باورچی خانہ تنگ دامنی کا شکوہ کرتے ہیں ۔ بڑے پکوان کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے ۔ پکوان کو جتنا دلچسپی سے بنایا جاتا ہے وہ اُتنا ہی لذیذ بن کر تیار ہوتا ہے ۔ اکثر خواتین پکوان تو کرتی ہیں لیکن صفائی کا خیال نہیں رکھتی ہیں ۔ کچن نے ترتیب ہوتا ہے ڈھیر سارے برتن کا استعمال کرتی ہیں ۔ تھوڑے سے پکوان کیلئے اور کچھ عورتیں بڑے بڑے ناخن رکھ کر پکوان کرتی ہیں جو کسی بھی طور پر مناسب نہیں ۔ جب بھی کسی دعوت کا ارادہ کریں تو نیت کو صاف رکھیں اس سے پکوان بھی لذیذ ہوتا ہے اور کھانا کم پڑنے کی گنجائش بھی کم ہوتی ہے ۔ کیونکہ سناگیا ہے کہ دعوتوں میں جو پکوان ہوتا ہے اس میں کچھ لوگ پھٹکری کا استعمال کرتے ہیں جس سے مہمان کھانا کم کھاتے ہیں۔ سن کر بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ پکوان تو ہوتا ہی ہے مہمان کو کھلانے کیلئے پھر کم کھلانے کا کیا مطلب ہے ؟ جب بھی کھلائیں دل کھول کر کھلائیں اس سے کسی بھی چیز میں کمی نہیں ہوگی ۔ انشاء اللہ