’پہلوان بیٹیوں کیساتھ وحشیانہ اور غیر مہذب سلوک پر کھٹر خاموش کیوں‘؟

   

28 مئی ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر درج ہوگیا، ہریانہ ریاستی کانگریس کے ترجمان ویدپرکاش کا ردعمل

چندی گڑھ: این جی او گرامین بھارت کے صدر اور ہریانہ ریاستی کانگریس کے ترجمان وید پرکاش ودروہی نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سے سوال کیا کہ وہ دہلی کے جنتر منتر پر ہریانہ کشتی پہلوان بیٹیوں کے ساتھ دہلی پولیس کے وحشیانہ اور غیر مہذب رویے پر خاموش کیوں ہیں ؟ منگل کو جاری ایک بیان میں ودروہی نے کہا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے یہ ان کا اخلاقی اور آئینی فرض ہے یا نہیں کہ وہ ہریانہ کی بیٹیوں کی عزت اور وقار کی حفاظت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ 28 مئی ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر درج کیا گیا ہے ۔ ایک طرف وزیر اعظم مودی نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی مبینہ افتتاحی تقریب میں اپنی طاقت کا دکھاوا کرتے ہوئے جمہوریت کا پروچن کر کے ملک کے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں تو دوسری طرف پارلیمنٹ ہاؤس سے دو کلومیٹر دور جنتر منتر پر وہ جنسی استحصال کے خلاف لڑ رہی دنیا کی مشہور خواتین پہلوانوں کو دہلی پولیس لاٹھیوں کی مدد سے کچل کر اور دبا کر انصاف کی آواز کا گلا گھونٹ رہی تھی۔ دوسری جانب ہریانہ اور اتر پردیش سے جڑی دہلی کی سرحدوں پر دہلی پولیس اور سیکورٹی فورسز خواتین پہلوانوں کی حمایت میں عام لوگوں کو دہلی جانے سے روک رہے تھے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں طاقت کے زور پر عام لوگوں کو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا جارہا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر پر لمبی چوڑی باتیں کرکے ایک شخص مودی جی کی تعریف کر رہی ہے ، لیکن یہ بتانے کی ضرورت کسی نے نہیں سمجھی کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں عوامی مسائل پر کب بات نہیں ہوگی، اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی افتتاحی تقریب کو اپنی جاگیر سمجھ کر اپوزیشن تقریب کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوجائے گی، پھر بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں کس جمہوریت اور آئین کا رونا رو رہی ہیں۔ ودروہی نے کہا کہ آج کی بی جے پی حکومت بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے بے شرمی کے ساتھ جنسی استحصال کرنے والے بی جے پی سنگھیوں کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے جنہوں نے ان کی عزت اور وقار پر حملہ کیا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ آج بہنوں اور بیٹیوں کو سب سے بڑا خطرہ جے پی-سنگھیوں اور بی جے پی حکومت سے ہی ہے ۔ انہوں نے ریاست کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بہنوں اور بیٹیوں کے وقار اور عزت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت لڑائی لڑیں۔