بنکاک: سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا کی بیٹی پیٹونگٹرن تھائی لینڈ کی نئی وزیر اعظم منتخب ہوگئی ہیں۔ وہ ملک کی سب سے کم عمر اور دوسری خاتون وزیراعظم بن گئی ہیں۔تھائی لینڈ کے اراکین پارلیمنٹ نے ملک کے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے آج جمعہ کو ووٹ ڈالے، جس میں حسب توقع پیٹونگٹرن فتح یاب رہیں۔ پیٹونگٹرن اپنے والد سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا اور خالہ ینگ لک کے بعد شیناواترا خاندان کی تیسری فرد ہیں جو وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔تھائی لینڈ کی آئینی عدالت کی جانب سے وزیراعظم سریتھا تھاوسین کو ان کے عہدے سے برطرف کردیے جانے کی وجہ سے نئے وزیراعظم کا انتخاب ضروری ہو گیا تھا۔ سریتھا کو مجرمانہ سزا یافتہ ایک شخص کو کابینہ درجے کا وزیر مقرر کرنے کی وجہ سے اقتدار سے محروم ہونا پڑگیا۔ چہارشنبہ کے روز سریتھا کی برطرفی فوج، شاہی حامی اسٹیبلشمنٹ اور عوامی طور پر مقبول پارٹیوں جو پیٹونگٹرن کے والد سے وابستہ ہیں، کے درمیان طویل عرصے سے جاری لڑائی کا تازہ ترین نتیجہ تھا۔پیٹونگٹرن شیناواترا اپنے والد ارب پتی کاروباری تھاکسن شیناواترا اور خالہ ینگ لک شیناواترا کے بعد تھائی لینڈ کی وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہونے والی شیناواترا خاندان کی تیسری فرد ہیں۔ وہ ملک کی دوسری خاتون اور سب سے کم عمر وزیر اعظم بھی بن گئی ہیں۔پھیئو تھائی پارٹی نے جمعرات کو پیٹونگٹرن کو اپنا امیدوار منتخب کیا۔ اس کی قیادت والے اتحاد میں شامل 10 دیگر جماعتوں میں سے کسی نے بھی متبادل امیدوار پیش نہیں کیا۔پارلیمنٹ میں تیسری سب سے بڑی جماعت، بھومجائیتھائی نے کہا کہ اس نے جمعے کے روز ووٹنگ میں پھیئو تھائی کے امیدوار کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔