نئی دہلی، 15 جولائی (یواین آئی) کانگریس کے لوک سبھا رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے نام بدھ کو ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے ان کے خدشات کی حمایت کی اور مرکزی حکومت سے نوجوانوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنے کی اپیل کی۔تھرور نے خط کے ذریعے کہا کہ منصفانہ اور میرٹ پر مبنی امتحانی نظام ہی متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے خط میں اپنی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں ان کے والد ایک تنخواہ دار ملازم تھے اور ایک ہی آمدنی سے تین بچوں کی تعلیم کا خرچ چلتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ، منصفانہ امتحانات اور ایماندارانہ نتائج ہی ان جیسے خاندانوں کے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کی بنیاد بنے ۔کانگریس ایم پی نے کہا کہ جب پیپر لیک ہوتے ہیں اور امتحانات منسوخ ہوتے ہیں تو نظام پر سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے ، تب سب سے زیادہ نقصان محنت کرنے والے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو ہوتا ہے ، جبکہ امیر طبقے کے پاس آگے بڑھنے کے دوسرے متبادل ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر تھرور نے کہا کہ ان کا غصہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ اس نسل کا درد ہے جس نے پوری ایمانداری سے محنت کی، پھر بھی نظام نے اسے مایوس کیا۔
انہوں نے نوجوانوں سے امید نہ ہارنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے ۔