نئی دہلی، 24 جون (یواین آئی) کانگریس پیپر لیک، تعلیم کی نجکاری، بے روزگاری اور نظامِ تعلیم سے متعلق مختلف مسائل کے حوالے سے 25 جون کو ملک کے 28 شہروں میں ‘چھاتروں کی گونج’ کے نام سے پریس کانفرنس کرے گی۔پارٹی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے ۔ سی۔ وینوگوپال نے منگل کی دیر رات بتایا کہ ان پروگراموں کے ذریعے طلبہ، نوجوانوں اور عام لوگوں کی تشویشات اور ناراضگی کو ملک کے سامنے رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان پریس کانفرنسوں سے کانگریس کے شعبئہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا، سینئر لیڈر عمران مسعود، پریانک کھرگے ، راگنی نائک، گورو گوگوئی، کنہیا کمار سمیت متعدد سینئر لیڈران خطاب کریں گے ۔پروگرام کے تحت بھونیشور میں پون کھیڑا، بھوپال میں عمران مسعود، چنئی میں پریانک کھرگے ، وجئے واڑہ میں راگنی نائک، دہلی میں گورو گوگوئی، پونے میں کنہیا کمار، چنڈی گڑھ میں راجیو شکلا، دہرادون میں رنجیت رنجن، کولکاتہ میں سپریا شرینیت اور سری نگر میں ادے بھانو چِب پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے ۔
جنہوں نے رام کو لوٹا ،وہ دیش کا کیا کریں گے:کانگریس
نئی دہلی 24 جون (یو این آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجیوالا نے مبینہ رام مندر زمین جائیداد گھوٹالے کے معاملے پر مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جم کر نشانہ بنایا اور کہا کہ رام مندر سے جڑی مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں کے تعلق سے برسوں پہلے انتباہ اور ثبوت سامنے آنے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ سرجیوالا نے کہا، “جنہوں نے ‘رام’ کو لوٹ لیا، وہ ‘دیش’ کا کیا کریں گے ، ذرا سوچئیے ۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ نومبر 2020 میں ایک آڈٹ فرم نے رام مندر میں مبینہ مالیاتی گڑبڑ کے تعلق سے انتباہ دیا تھا، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جون 2021 میں کانگریس نے مبینہ گھوٹالے سے جڑی دستاویزات، رجسٹری اور دیگر کاغذات عام کیے تھے اور جن لوگوں کے نام اس وقت سامنے آئے تھے ، وہی نام آج بھی چرچا میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت اور یوگی آدتیہ ناتھ نے جانچ تو بٹھائی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
امریکہ کی خوشنودی، چین کے سامنے خودسپردگی مودی حکومت کی پالیسیاں :کانگریس
نئی دہلی، 24 جون (یو این آئی) کانگریس نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اقتصادی پالیسیاں امریکہ کی خوشنودی اور چین کے سامنے خودسپردگی والی ہیں۔پارٹی نے اس کا ثبوت دیتے ہوئے بتایا کہ 2025-26 میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی اشیا کی تجارت کے سرپلس میں کمی اور چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں اضافے سے ملتا ہے ۔ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے چہارشنبہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ سال 26-2025 میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی اشیا کی تجارت کا سرپلس 34.4 ارب ڈالر رہا، جبکہ سال 25-2024 میں یہ 40.1 ارب ڈالر تھا۔ اس کے برعکس چین کے ساتھ ہندوستان کی اشیا کا تجارتی خسارہ 25-2024 کے 99.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 26-2025 میں 112.2 ارب ڈالر ہو گیا۔رمیش نے ان اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ، “مودی نامکس = امریکہ کی خوشنودی اور چین کے سامنے خودسپردگی۔