حیدرآباد ۔3۔مئی۔(سیاست نیوز) چائے کے شائقین چوکنا ہو جائیں اور اس بات کو جانچ لیں کہ وہ چائے کے نام پر کہیں زہر تو نہیں پی رہے ہیں! کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے جہاں ہندستان سے چائے کی پتی روانہ کی جاتی ہے ان ممالک نے چائے کی پتی میں منظورہ مقدار سے زیادہ کیڑے مار ادویات کی موجودگی کے سبب اپنے آرڈر منسوخ کرتے ہوئے روانہ کی گئی چائے کی پتی واپس کردی ہے۔ ہندستان میں فروخت کی جانے والی چائے کی پتی اور دنیا کے دیگر ممالک کو روانہ کی جانے والی چائے کی پتی میں میں شامل کیمیکل اجزاء کی مقدار منظورہ مقدار سے کافی زیادہ پائے جانے کے بعد چائے کی پتی کے آرڈرس منسوخ ہونے کی توثیق ہوچکی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ FSSAI فوڈ سیفٹی اینڈاسٹینڈرڈاتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے چائے کی پتی کی جانچ کے بعد قابل استعمال ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیاجانا ضروری ہے اور اس سرٹیفیکیٹ کے ساتھ ہی یہ چائے کی پتی روانہ کی گئی تھی لیکن عالمی معیارات کے مطابق ہندستان سے روانہ کی گئی چائے کی پتی میں مقدارسے زیادہ کیمیکل اجزاء کی موجودگی نے یوروپی ممالک کے علاوہ دیگر کو حیرت میں مبتلاء کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چائے کی پتی کے فروخت کنندگان اور کاشتکاروں کی جانب سے FSSAI کو روانہ کردہ ایک مکتوب میں اس بات کی خواہش کی گئی تھی کہ چائے کی پتی میں شامل کیمیکل اجزاء کی مقدار میں اضافہ کرنے اور پالیسی کو مزید لچکدار بنانے کی خواہش کی گئی تھی لیکن FSSAI نے کیڑے مار ادویات اور کیمیکل اجزاء کی مقدار میں کسی قسم کے اضافہ سے انکار کرتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ منظورہ مقدار سے زیادہ کیمیکل اجزاء کا استعمال انسانی صحت کے لئے مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ سال 2021کے دوران ہندستان سے 195.90 ملین کیلو چائے کی پتی دنیا کے مختلف ممالک کو روانہ کی گئی تھی اور اب سری لنکا میں جاری کشیدگی اور ابتر صورتحال کے سبب ہندستان سے روانہ کی جانے والی چائے کی پتی کی مانگ میں اضافہ کا امکان تھا لیکن چائے کی پتی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزاء کے سبب آرڈرس منسوخ کئے جاچکے ہیں۔سال گذشتہ ہندستان سے دنیا بھر کے مختلف ممالک کو 5246 کروڑ 89لاکھ کی چائے کی پتی فروخت کی گئی تھی۔م