چارہ گھوٹالہ :لالو پرساد کی سزا پر التواء برقرار

   

نئی دہلی، 14 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کو دیوگھر چارہ گھوٹالہ معاملے میں آرجے ڈی کے سربراہ لالو پرساد کی سزا پر روک کو برقرار رکھتے ہوئے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے البتہ ہائی کورٹ سے یادو کی زیرِ التوا فوجداری سے متعلق اپیل پر چھ ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی گزارش کی۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور پی بی ورالے کی بنچ جھارکھنڈ حکومت کی طرف سے دائر ایک خصوصی عرضی (ایس ایل پی) پر سماعت کر رہی تھی۔ اس عرضی میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے 12 جولائی 2019 کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں دیوگھر خزانہ چارہ گھٹالہ معاملے میں لالو پرساد کی سزا پر روک لگائی گئی تھی۔ ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ نے لالو پرساد کی سزا پر غلط طریقے سے روک لگائی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ عدالت نے غلط طریقے سے یہ مانا کہ انہوں نے اپنی سزا کا 50 فیصد حصہ پورا کر لیا ہے ، جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 427 کے تحت الگ الگ چارہ گھوٹالہ کے معاملات میں ان کی سزا ایک کے بعد ایک چلنی چاہیے ۔ سپریم کورٹ نے معاملے کے نفع و نقصان پر غور نہیں کیا اور اس کے بجائے زیرِ التوا اپیل پر جلد سماعت کی ضرورت پر زور دیا۔