چمپت رائے کے استعفیٰ کے بشمول 5 امور پر غور وخوض کا امکان

,

   

چندہ چوری واقعہ کے بعد رام مندر ٹرسٹ کا آج اہم اجلاس

نئی دہلی ۔5؍جولائی( ایجنسیز ) رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ کا ایک اہم اجلاس 6 جولائی کو ہونے والا ہے جس کی قیادت خزانچی گووند دیو گری کریں گے۔ یہ اجلاس ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کی صدارت میں منیرام داس چھاوانی میں ہوگی۔جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی ڈاکٹر انیل مشرا کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ میٹنگ کے دوران ٹرسٹیز اکثریتی ووٹ سے فیصلہ کریں گے کہ چمپت رائے اور ڈاکٹر انیل مشرا کے استعفوں کو قبول یا مسترد کرنا ہے۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ کا قیام 5 فروری 2020 کو ہوا تھا ٹرسٹ کی ہر میٹنگ کی صدارت جنرل سکریٹری چمپت رائے نے کی ہے۔ وہ سرکاری نوٹس جاری کرنے، ایجنڈا ترتیب دینے اور تمام اہم معلومات پیش کرنے کا ذمہ دار تھا۔چمپت رائے نے 26 جون کو شری رام مندر سے چندہ کی چوری کے الزامات کے بعد ٹرسٹی ڈاکٹر انیل مشرا کے ساتھ اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا ۔ خزانچی گووند دیو گری نے تصدیق کی کہ دونوں استعفے موصول ہو گئے ہیں۔ چمپت رائے کے استعفیٰ کے بعد، خزانچی گووند دیو گری نے ایک بڑا انتظامی کردار سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے 6 جولائی کو اجلاس طلب کرنے کا باضابطہ نوٹس جاری کیا اور اسے تمام ٹرسٹیز تک پہنچا دیا۔اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا جس میں ایجنڈے کے پانچ اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی ڈاکٹر انیل مشرا کے استعفوں پر غور۔شری رام مندر کے چندہکی مبینہ چوری کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کی ابتدائی رپورٹ کی پیش کش۔مندر کے مستقبل کے انتظام میں زیادہ شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہیں۔مالیاتی منظوریوں کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ 2025.26 مالی سال کے لیے ٹرسٹ کی آمدنی، اخراجات اور دیگر مالیاتی گوشواروں کی پیشکش۔ٹرسٹ کے چیئرمین کی اجازت سے دیگر معاملات پر غور کرنا۔

رام مندچندہ چوری کیس: ایک سال پرانا ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا بحال،2کروڑ کی مبینہ چوری کا انکشاف
نئی دہلی ۔5؍جولائی ( ایجنسیز )رام مندر میں چندہ چوری کے معاملے کی تحقیقات میں ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ جن موبائل چیٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈز کو ملزمین ہمیشہ کے لیے حذف شدہ سمجھ رہے تھے وہی اب ان کے خلاف مضبوط ثبوت بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سائبر فرانزک جانچ کے ذریعے پولیس نے تقریباً ایک سال قبل ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا دوبارہ حاصل کر لیا ہے جس سے مبینہ طور پر دو کروڑ روپے سے زائد کی چوری سے متعلق کئی اہم سراغ ملے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایودھیا پولیس نے سائبر سیل کی مدد سے اہم ملزمین کے پرانے موبائل فونز کا بیک اپ حاصل کیا۔ فرانزک تجزیے کے دوران حذف شدہ چیٹس، تصاویر اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ بھی بحال کر لیے گئے۔ پولیس کو پہلے ہی شبہ تھا کہ ملزمین نے ثبوت مٹانے کی نیت سے اپنے پرانے موبائل تبدیل کر دیے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہیکہ جدید تکنیکی تحقیقات نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری 2026 میں ملزم انکلپ مشرا اور لوکش مشرا کے درمیان مبینہ طور پر چوری کی رقم کی تقسیم کو لیکر شدید اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ چیٹس میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ایک ملزم نے اپنے حصے سے زیادہ رقم اپنے پاس رکھ لی جبکہ باقی رقم دیگر افراد کے ساتھ تقسیم نہیں کی۔ تفتیشی ایجنسیاں ان چیٹس کو مقدمے کی ایک اہم کڑی قرار دے رہی ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر چوری کی گئی رقم سے کن افراد نے کار، موٹر سائیکل، مکان یا دیگر جائیدادیں خریدیں۔ اگر بینک ریکارڈ اور چیٹس میں موجود معلومات آپس میں مطابقت رکھتی ہیں تو یہ شواہد کیس کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی ملزم اویناش شکلا نے مبینہ چوری کی رقم سے ایک کار خریدی، لیکن اسے اپنے نام کے بجائے اپنے بھائی ابھیشیک کے نام پر رجسٹر کرایا۔پولیس نے ریمانڈ کے دوران ملزم کی نشاندہی پرکار برآمد کر لی ہے۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد تفتیشی افسران جیل میں بند ملزمان سے مزید پوچھ تاچھ کریں گے تاکہ مبینہ چوری کی پوری سازش، رقم کے استعمال اور اس معاملے میں ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کے کردار سے بھی پردہ اٹھایا جا سکے۔