حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ماحولیاتی منظوری ملنے کے بعد نومبر میں چنتلا پوڈی لفٹ ایریگیشن پراجکٹ پر کام دوبارہ شروع کیا جائے ۔ انہوں نے ریاست بھر میں 36 ترجیحی آبپاشی منصوبوں کی تکمیل کے لیے دسمبر 2028 کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کی ہے ۔ چیف منسٹر نے کیمپ آفس میں محکمہ آبی وسائل کی کارکردگی کا جائزہ لیا ۔ شہری بلدیاتی انتخابات میں مصروفیت کے باوجود انہوں نے اس شعبے کے امور پر دو گھنٹے سے زائد وقت صرف کیا ۔ ریاست میں سمندری طوفان کے باعث شدید بارشوں کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے حکام کو احتیاطی تدابیر کرنے اور بارش کے پانی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہر گھر تک نل کا پانی اور ہر ایکر زمین کے لیے آبپاشی کا پانی پہنچانا ہے ۔ انہوں نے پانی کے موثر انتظام ، دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے منصوبوں ، نہری نظام کو مضبوط بنانے اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے پر زور دیا ۔ حکام نے چیف منسٹر کو بتایا کہ پولاورم منصوبے پر 90.2 فیصد تعمیراتی کا کام مکمل ہوچکا ہے ۔ مٹی اور پتھروں سے تعمیر کئے جانے والے اس ڈیم کے گیپ 1 اور گیپ 2 پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ چیف منسٹر نے حکام کو ہدایت کی کہ پولاورم کی دائیں اور بائیں جانب کی مرکزی نہروں کو مارچ 2027 تک مکمل کرلیا جائے اور ان کی پانی سے جانے کی صلاحیت کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی منتقل کیا جاسکے ۔ آبی وسائل کے وزیر نملا راما نائیڈو اسپیشل چیف سکریٹری ششی بھوشن اور چیف انجینئروں نے اس جائزہ اجلاس میں شامل تھے ۔۔ ش m/b