چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی مودی حکومت کو تائید معنی خیز: ڈاکٹر نارائنا

   

ملک میں ڈاکٹرس کے احتجاج کی تائید، ستمبر کے پہلے ہفتہ میں مہنگائی کے خلاف طویل احتجاج
حیدرآباد۔/21 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے کولکتہ میں لیڈی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا جس میں ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ڈاکٹر کے نارائنا نے بہار کے سی پی آئی سکریٹری رام نریش پانڈے اور اسٹیٹ سکریٹریٹ رکن رام بابو کمار کے ہمراہ پٹنہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر مظالم کے واقعات کی روک تھام کیلئے ملک بھر کیلئے تجاویز پیش کرنے ٹاسک فورس کی تشکیل خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا قطعی فیصلہ انتہائی جامع رہے گا اور خاطیوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت بیروزگاری سے نمٹنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ نریندر مودی نے ہر سال دو کروڑ جائیدادوں کا وعدہ کیا تھا۔ اگر وعدہ کی تکمیل کی جاتی تو دس سال میں 20 کروڑ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے اب کی بار 400 پار کے نعرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں عوام نے بی جے پی کو اکثریت سے محروم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور مودی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اڈانی اور دیگر صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کی تائید سے مودی حکومت برقرار ہے۔ نریندر مودی نے بہار اور آندھرا پردیش کیلئے خصوصی موقف کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ نارائنا نے چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار سے سوال کیا کہ وہ تائید کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال پر ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ بنگلہ دیش میں سیکولر عوام ہندوؤں کا تحفظ کررہے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر میںجاری ڈاکٹرس کی ہڑتال کی تائید کی۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ کولکتہ کے علاوہ بہار کے مظفر پور اور ملک کے دیگر علاقوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں۔ سی پی آئی نے مہنگائی کے خلاف یکم تا 7 ستمبر ملک بھر میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنرس کو ریاستی حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔1