’چھاتروں کی گونج‘ کا اگلا پروگرام ناگپور میں ہوگا!

   

آرایس ایس کے گڑھ میں راہول کے پروگرام پر سب کی نظریں
نئی دہلی ۔25؍اگست ( ایجنسیز )کانگریسقائد راہول گاندھی ملک کے مختلف شہروں میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ یہ طلبہ سے مکالمے کا ایک پروگرام ہے، جس کے ذریعے پیپر لیک، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور بے روزگاری جیسے مسائل کے خلاف طلبہ کی آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے پونے میں اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا اب خبر ہے کہ اگلا پروگرام ناگپور میں ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق مہاراشٹرا کانگریس کی جانب سے راہول گاندھی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ’چھاتروں کی گونج‘ کا اگلا پروگرام ناگپور میں منعقد کریں۔ تاہم یہ پروگرام کب اور کس تاریخ کو ہوگا فی الحال طے نہیں ہوا ہے۔ پروگرام کی تفصیلات پر بات چیت کے لیے جلد ہی مقامی پارٹی عہدیداروں کی ایک رابطہ میٹنگ منعقد ہونے کا امکان ہے۔ مہاراشٹر اکانگریس کی یہ درخواست 22 اگست کو پونے میں راہول گاندھی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے بعد سامنے آئی ہے۔ پونے میں اس پروگرام کا چوتھا ایڈیشن منعقد کیا گیا تھا۔ اس دوران راہول گاندھی نے خواتین کی آزادی اور تعلیم سے لے کر قبائلی طلبہ کے خدشات تک مختلف مسائل پر طلبہ سے گفتگو کی تھی۔ پارٹی کے مطابق پونے کا پروگرام کافی کامیاب رہا اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی کئی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔دوسری طرف بی جے پی نے اس پر شدید تنقید کی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آر ایس ایس کے گڑھ میں راہول گاندھی کا پروگرام ہوگاجس پر سب کی نظریں ہیں۔

قبائلی طلبہ کی آواز اٹھانے پرروہت کا راہول سے اظہارتشکر

نئی دہلی ۔ 25 اگست (ایجنسیز) پونے کے بارامتی سے این سی پی (ایس پی) رکن اسمبلی روہت پوار نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے مہاراشٹراا کے قبائلی طلبہ کی آواز اٹھانے اور وزیر اعلیٰ کو خط لکھنے پر راہول گاندھی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’راہول گاندھی آپ نے اس انتہائی اہم معاملے میں ذاتی طور پر توجہ دی، اس کے لیے آپ کا دل سے شکریہ۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’قبائلی طلبہ کا یہ معاملہ انتہائی سنگین اور حساس ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ پیر کو ہوئی مہاراشٹرا کابینہ کی میٹنگ میں اس موضوع پر بحث تک نہیں ہوئی۔ قبائلی امور کے وزیر کے ساتھ طلبہ کی ہوئی میٹنگ میں بھی کچھ حل نہیں نکلا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت قبائلی طلبہ کے جائز مطالبات اور ان کے مسائل کے حل کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔‘‘روہت پوار اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’آنے والے دنوں میں ان طلبہ کے ذریعہ ایک بڑی عوامی تحریک کے انعقاد کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس تحریک میں آپ (راہول گاندھی) بھی موجود ہوں، ان طلبہ کی ایسی خواہش ہے۔ آپ کی موجودگی سے اس بے حس حکومت پر یقینی طور پر بڑا دباؤ بنے گا اور حکومت کو پیچھے ہٹ کر طلبہ کے جائز مطالبات کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ اس لیے آپ اس معاملے پر یقینی طور پر مثبت انداز میں غور کریں اور طلبہ کے اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں، یہی مؤدبانہ گزارش ہے۔

وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ ، یوتھ کانگریس کا مارچ
نئی دہلی، 25 اگست (یو این آئی) یوتھ کانگریس نے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کے روز دہلی پردیش کانگریس دفتر سے بی جے پی ہیڈکوارٹر تک پیدل مارچ کیا۔ اس دوران دہلی پولیس نے مظاہرین کو ڈی ڈی یو مارگ پر بیری کیڈنگ کر کے روک دیا۔دہلی پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اکشے لاکڑا نے کہا کہ طلباء پر پیلٹ گن اور مہلک طاقت کے استعمال کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ وزیرِ داخلہ کے حکم پر ہوا تو جواب دہی طے ہونی چاہیے اور اگر ان کی اطلاع کے بغیر ہوا، تو یہ ملک کے اندرونی سلامتی کے نظام پر سنگین سوال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ کانگریس طلباء کو انصاف ملنے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے وزیرِ اعظم سے مسٹر شاہ کو برطرف کرنے اور اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ داخلہ کے استعفے کے مطالبے پر آن لائن مہم بھی چلائی جا رہی ہے