چیف جسٹس چندر چوڑ بمبئی ہائیکورٹ کے ججوں پر ناراض

   

’’ملک میں جج بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹیکنالوجی کا علم ہونا چاہیے‘‘
نئی دہلی: چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے بمبئی ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے ورچوئل سماعت یا ہائبرڈ موڈ کی سماعت نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ سی جے آئی نے کہا کہ اگر آپ جج بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ہائی کورٹس میں ‘ہائبرڈ سماعت کے بارے میں سی جے آئی چندر چوڑ نے کہا کہ اگر آپ جج بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا پڑے گا، اس کیلئے کوئی آپشن نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس میں ‘ہائبرڈ’ سماعتوں کو یقینی بنانے کیلئے متعدد ہدایات جاری کیں اور کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اب ججوں کی ترجیحات پر منحصر نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم مرکزی آئی ٹی وزارت کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ آن لائن سماعتوں تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے شمال مشرقی ریاستوں کی عدالتوں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی سہولت کو یقینی بنائے۔ تمام ہائی کورٹس چار ہفتوں میں ہائبرڈ یا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت سے متعلق ایس او پی پر عمل درآمد کریں گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکم کے دو ہفتوں کے بعد کوئی بھی ہائی کورٹ وکلاء اور مدعیان کو ویڈیو کانفرنس یا ‘ہائبرڈ موڈ’ کے ذریعہ سماعت کرنے سے انکار نہیں کرے گا۔ سی جے آئی نے مشاہدہ کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس گوتم پٹیل کے علاوہ ہائی کورٹ کے کچھ اور جج بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے نظر آئے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے اتنی دوری کیوں ہے؟ جسٹس پٹیل کے علاوہ کوئی اور اس کا استعمال نہیں کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ہے۔ڈی وائی چندرچوڑ نے کہاکہ اب آپ نے بمبئی ہائی کورٹ میں بنیادی ڈھانچہ توڑ دیا ہے۔ یہ میرا پیرنٹ ہائی کورٹ ہے اور مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ ہائبرڈ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ کتنی ا سکرینیں ہٹا دی گئی ہیں؟ جسٹس گوتم پٹیل کے علاوہ کتنی عدالتوں میں ہائبرڈ سماعت ہوتی ہے؟ سی جے آئی نے مزید کہا کہ ہندوستان میں ہر جج کو ٹکنالوجی کے ساتھ رفتار برقرار رکھنا ہوگی۔ سی جے آئی چندرچوڑ نے کہاکہ سوال یہ نہیں ہے کہ جج ٹیک فرینڈلی ہے یا نہیں۔ اگر آپ جج بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹیک فرینڈلی بننا ہوگا۔ اگر آپ اس ملک میں جج بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹیکنالوجی کا علم ہونا چاہیے اور ہر جج کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔

یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی تربیتی مراکز میں تربیت دی گئی ہے۔ سی جے آئی چندر چوڑ نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے تو پھر ہائی کورٹ اس معاملے میں اتنا کنجوس کیوں ہے؟ ٹیکنالوجی انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔مہاراشٹرکے ایڈوکیٹ جنرل ڈاکٹر بیرندر صراف کو مخاطب کرتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ ایک وکیل نے بتایا کہ بامبے ہائی کورٹ میں ٹیکنالوجی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ جس کے جواب میں اے جی صراف نے کہا کہ ججز درخواست کرنے پر ورچوئل سماعت کی اجازت دیتے ہیں۔ سی جے آئی نے کہاکہ دیگر جج ٹیکنالوجی کو کیوں نہیں اپنا رہے ہیں؟ اس میں اعتراض کیا ہے؟ ممبئی جیسے شہر میں سفر کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک وکیل کی حیثیت سے مجھے ہائی کورٹ سے سٹی سول کورٹ تک بھاگنا ہے۔ سی جے آئی چندرچوڑ نے کہا کہ ٹیکنالوجی اب انتخاب کا معاملہ نہیں ہے اور یہ قانون کی کتابوں کی طرح اہم ہے۔ ٹیکنالوجی کے بغیر عدالتیں کیسے چلیں گی؟