چیف سکریٹری کے عہدہ پر سینئر موسٹ دلت عہدیدار نظر انداز

   

رانی کمودنی کو مقرر کرنے کانگریس کا مطالبہ
حیدرآباد۔13۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے چیف سکریٹری کے عہدہ پر شریمتی سانتی کماری کے تقرر کے بعد آئی اے ایس عہدیداروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے ریاست میں سینئر موسٹ آئی اے ایس عہدیدار رانی کمودنی کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے جونیئر سانتی کماری کو چیف سکریٹری کے عہدہ پر فائز کیا ہے۔ سومیش کمار کے تقرر کے وقت بھی آئی اے ایس عہدیداروں نے سینیاریٹی کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سانتی کماری سے زیادہ سینئر 4 آئی اے ایس عہدیدار موجود ہیں اور عام طور پر چیف سکریٹری کے عہدہ پر تقرر کیلئے سینیاریٹی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ویسے بھی چیف منسٹر کا اختیار تمیزی ہے کہ وہ اہلیت کی بنیاد پر کسی جونیئر کا تقرر کرے۔ اسی دوران نائب صدر پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر ملو روی نے سانتی کماری کی جگہ رانی کمودنی کے تقرر کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سانتی کماری 1989 ء آئی اے ایس بیاچ سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ رانی کمودنی 1988 بیاچ سے تعلق رکھتی ہیں۔ رانی کمودنی کو وظیفہ پر سبکدوشی کیلئے 6 ماہ باقی ہیں۔ وہ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور حیدرآباد کے سابق پولیس کمشنر آنجہانی اسمال پلنا کی دختر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی طبقات کو خوش کرنے کیلئے حکومت نے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا لیکن چیف سکریٹری کے عہدہ پر دلت خاتون کے تقرر کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ملو روی نے کہا کہ دلت طبقہ کی سینئر موسٹ خاتون کو نظر انداز کرنے سے بی آر ایس کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ ر

انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو سینیاریٹی کے اعتبار سے رانی کمودنی کا تقرر کرنا چاہئے ۔ر