چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس کی عدم اجرائی پر والدین و سرپرستوں کا احتجاج

   

حکومت سے منظوری اور رقومات کی اجرائی کے باوجود کھاتوں میں جمع نہ ہونے کی شکایت
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کی عدم اجرائی اور عہدیدارو ںکی جانب سے اختیارکردہ رویہ کے خلاف اولیائے نے حج ہاؤز پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اوورسیز اسکیم کی رقومات کی اجرائی کا مطالبہ کیا ۔ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کی نگرانی میں جاری کئے جانے والی اوورسیز اسکالر شپس کی منظوری کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے سال میں دو مرتبہ درخواستیں وصول کی جاتی ہیں اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سال کے اختتام سے قبل تمام منظورہ درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے رقومات جاری کردی جاتی ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے اوورسیز اسکالر شپس کے سلسلہ میں مختص کئے جانے والے بجٹ کی اجرائی کو 4مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے دعوے کے مطابق ریاستی حکومت نے مالی سال 2021-22 تک کے مکمل رقومات کو جاری کردیا ہے لیکن اولیائے طلبہ کے احتجاج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے گمراہ کن اعداد و شمار جاری کئے جا رہے ہیں جو کہ نہ صرف حکومت کو گمراہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ریاست کے ایوانوں میں اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے قائدین کو بھی گمراہ کیا جا رہاہے۔ سال 2020کے دوران درخواست داخل کرنے والے بیشتر طلبہ کو ایس ایم ایس پیام موصول ہوچکے ہیں کہ ان کے کھاتوں میں رقومات کی منتقلی کی جا رہی ہے لیکن ان کے کھاتوں میں اب تک رقومات منتقل نہیں کی گئی ہیں جبکہ سال 2021 کے کسی بھی درخواست گذار کو اب تک اوورسیز اسکالرشپس کی رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہناہے کہ مالی سال 2020-21کے دوران 58.93کروڑ کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے جبکہ مذکورہ سال 62.53 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا تھا اسی طرح سال 2021-22کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے 74.46 کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی گئی تھی اور اس میں 72.35کروڑ کے بل تیار کئے جاچکے ہیں اور ان کے جملہ اجرائی 72.35 کروڑ عمل میں لائی جاچکی ہے اور ان کے ٹوکن بھی جاری کئے جاچکے ہیں لیکن ان میں اب تک کسی بھی طالب علم کو رقومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ احتجاجی اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے بتایا کہ حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کئے جانے والے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں کیونکہ وہ اب بھی اپنے بچوں کے لئے جاری کی جانے والی اسکالرشپس کی رقومات کے لئے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اوورسیز اسکالر شپس کی اجرائی میں جاری دھاندلیوں کی بھی اب اولیائے طلبہ کی جانب سے نشاندہی کی جانے لگی ہے اور کہاجا رہاہے کہ ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے ملازمین اپنے ایجنٹس کے ذریعہ 25فیصد تک رقومات حاصل کرتے ہوئے رقومات کی اجرائی عمل میں لارہے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ 2تا3لاکھ روپئے اڈوانس طلب کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کے مطابق سال 2022-23 کے دوران اوورسیز اسکالرشپس کے لئے75 کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے جبکہ 74.40کروڑ کے بلز کی تیاری کرتے ہوئے داخل کئے جاچکے ہیں اور 73.69 کروڑ کے ٹوکن جاری کئے جاچکے ہیں لیکن جب 2020کے طلبہ ہی اسکالرشپس کی رقومات کا انتظار کر رہے ہیں ایسے میں ان کی اسکالرشپس کی اجرائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی لئے ان اعداد و شمار کو گمراہ کن قرار دیا جا رہاہے۔م