چیف منسٹر اوور سیز اسکالرشپ اسکیم 2020 کی درخواستوں پر رقومات کی اب تک عدم اجرائی

   


محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ فینانس میں تال میل کا فقدان ۔ ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا

حیدرآباد۔ 5۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت 2020 کی درخواستوں کی رقومات اب تک جاری نہیں کی گئیں جبکہ 2022میں درخواستیں داخل کرنے والے طلبہ کی اسکالرشپس منظور ہوچکی ہیں۔چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کی رقومات کی اجرائی میں تاخیر سے متعلق دریافت کرنے پر انکشاف ہوا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بلوں کی روانگی کے باوجود محکمہ فینانس ان طلبہ کے کھاتوں میں رقومات منتقل کرنے سے قاصر ہے جنہیں اسکالرشپس منظورہوچکی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جن اضلاع کے درخواست گذاروں کی تعداد کم ہے وہاں طلبہ کیلئے اوورسیز اسکالرشپس کی رقومات جاری کی جا رہی ہیں اور حیدرآباد‘ نظام آباد‘ رنگاریڈی ‘ ملکاجگری ۔میڑچل کے درخواست گذاروں کو رقومات کی منظوری اور ان کے کھاتوں میں منتقلی کی آن لائن تفصیلات فراہم کرنے کے باوجود انہیں رقومات نہیں ملی ہیں جو کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ فینانس کے لاپرواہ رویہ کا ثبوت ہے۔ چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپس کی منظوری کو نظر میں رکھتے ہوئے جو طلبہ بیرون ملک جامعات میں داخلہ لے کر اس امید کے ساتھ روانہ ہوچکے ہیں کہ اسکالر شپس کی اجرائی کے بعد تعلیم کیلئے لئے گئے قرض کی ادائیگی کردی جائے گی ان طلبہ کے والدین و سرپرست اب قرض کے بوجھ سے مسائل کا شکار ہیں کیونکہ حکومت سے اسکالرشپس کی اجرائی میں 2سال تک کی تاخیر طلبہ کیلئے پوسٹ گریجویشن کی تکمیل ہونے لگی ہے اور جن لوگوں نے قرض دیا تھا وہ اب قرض کی واپسی پر زور دے رہے ہیں ۔ حیدرآباد کے طلبہ کو اسکالرشپس کی اجرائی میں تاخیر پر کہا جا رہاہے کہ محکمہ فینانس سے بلوں کی وصولی کے باوجود رقومات کی عدم اجرائی کی بنیادی وجہ محکمہ اقلیتی بہبود سے بروقت مناسب پیروی نہ کیا جانا ہے۔ محکمہ فینانس کا کہناہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود سے بلوں کی اجرائی میں یکسانیت نہ ہونے سے منظوری کے باوجود رقومات جاری کرنے میں دشواریاں پیدا ہورہی ہیں جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہناہے کہ وہ اسکالرشپس کی منظوری اور بجٹ کی وصولی کے ساتھ ہی بلوں کی منظوری کے ذریعہ محکمہ فینانس کو تفصیلات روانہ کر رہے ہیں ۔2020 کے دوران جن طلبہ کو منظوری کے باوجود رقومات جاری نہیں کی جاسکی ہیں ان کے متعلق کہا جا رہاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے جو بجٹ محکمہ فینانس کو روانہ کیا تھا وہ اب سوخت کردیا گیا ہے۔