چیف منسٹر ریونت ریڈی کا دورہ دہلی کامیاب، ہائی کمان کی مکمل تائید حاصل

   

پارٹی میں ناقابل چیلنج لیڈر کے طور پر ابھرے، طبقاتی سروے اور بی سی تحفظات کی مساعی نے سیاسی طورپر مستحکم کردیا
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی دو روزہ دورہ دہلی کے بعد آج حیدرآباد واپس ہوئے۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد 18 ماہ میں ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کی حیثیت سے یوں تو کئی مرتبہ دہلی کا دورہ کیا تھا لیکن دو دن کا تازہ ترین دورہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ ہائی کمان کے پاس ریونت ریڈی کا موقف غیر معمولی مستحکم ہوچکا ہے۔ دورہ دہلی کو ریونت ریڈی کی اہم سیاسی کامیابی تصور کیا جارہا ہے کیونکہ سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے نے طبقاتی سروے کے کامیاب انعقاد اور پسماندہ طبقات کو تعلیم ، روزگار اور سیاست میں 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی مساعی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کی کاوشوں کو سراہا۔ بی سی تحفظات کی منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں دستوری ترمیم پر مرکزی حکومت پر دباؤ بنانے کے مقصد سے چیف منسٹر نے دہلی کا دورہ کیا۔ انہوں نے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور اے آئی سی سی کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں طبقاتی سروے کی تفصیلات پیش کیں۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی کو بھی ہائی کمان سے روبرو کیا اور ماہرین نے طبقاتی سروے کو فل پروف ثابت کرتے ہوئے 42 فیصد تحفظات کیلئے ریونت ریڈی کی سنجیدگی کی ستائش کی۔ کانگریس کے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے لئے اندرا بھون میں پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی نے ریونت ریڈی کی بھرپور تعریف اور ستائش کی اور اعلیٰ طبقہ سے تعلق کے باوجود پسماندہ طبقات کی بھلائی کی فکر کی تعریف کی۔ راہول گاندھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں طبقاتی سروے کے انعقاد کا یقین نہیں تھا لیکن ریونت ریڈی نے اسے چیلنج کے طور پر مکمل کرتے ہوئے ملک کو نئی راہ دکھائی ہے ۔ سماجی انصاف کے راہول گاندھی کے نظریہ کو آگے بڑھانے میں ریونت ریڈی حکومت نے جو پیشرفت کی ہے، اسے نہ صرف ہائی کمان بلکہ دیگر ریاستوں کے کانگریس قائدین کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ ملکارجن کھرگے اور پرینکا گاندھی نے بھی راہول گاندھی کی مساعی کو سراہا اور پارلیمنٹ میں بی سی تحفظات کیلئے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ سابق صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ریونت ریڈی کی ملاقات نہ ہوسکی، تاہم سونیا گاندھی نے مکتوب روانہ کرکے ریونت ریڈی کی بھرپور ستائش کی۔ مبصرین کے مطابق حالیہ عرصہ میں کابینہ میں توسیع اور حکومت کی سطح پر اہم فیصلوں کے معاملہ میں بعض وزراء میں ناراضگی دیکھی جارہی تھی۔ بعض گوشوں نے ریونت ریڈی کے انداز کارکردگی کی ہائی کمان سے شکایت کی تھی۔ ان حالات میں گزشتہ دو دن نئی دہلی میں ریونت ریڈی کا قیام انہیں سیاسی طور پر مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے ۔ مبصرین کے مطابق ریونت ریڈی ہائی کمان کی بھرپور تائید سے تلنگانہ میں ناقابل چیلنج لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ ایک ہی وقت میں سونیا گاندھی ، کھرگے ، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی تائید حاصل کرنا غیر معمولی کامیابی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کیلئے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کی تکمیل کے بعد کئی وزراء اور عوامی نمائندوں نے ریونت ریڈی کی سرکاری قیامگاہ پہنچ کر انہیں مبارکباد پیش کی۔ ریونت ریڈی کانگریس پارٹی میں بی سی طبقات کے ہمدرد اور مسیحا کے طور پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے حال میں محبوب نگر دورہ کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ وہ 10 سال تک چیف منسٹر برقرار رہیں گے۔ اس بیان پر بعض گوشوں نے اعتراض جتایا لیکن دورہ دہلی کے موقع پر ہائی کمان سے جس طرح کی تائید اور تعریف حاصل ہوئی ہے، اس نے محالفین کا منہ بند کردیا اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ ریونت ریڈی یقینی طور پر دوسری میعاد کیلئے چیف منسٹر ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہائی کمان کے قائدین نے انفرادی ملاقات میں حکومت کی کارکردگی کی ستائش کی ۔ ملک بھر میں طبقاتی سروے اور بی سی تحفظات کی جدوجہد کا سہرا ریونت ریڈی کے سر جاتا ہے۔ مرکز نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا اور راہول گاندھی نے اس کیلئے ریونت ریڈی کو کریڈٹ دیا۔ ہائی کمان کی مکمل تائید کے بعد ریونت ریڈی ایک نئے جذبہ اور حوصلہ کے ساتھ حیدرآباد واپس ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں بھی انہیں مبارکباد پیش کرنے والوں کا تانتا بن چکا ہے۔1